Main Icon

باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5029

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْخَمِيسِ فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِاللّٰهِ شَيْئًا إِلَّا رَجُلٌ كَانَتْ بَيْنَهٗ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءٌ فَيُقَالُ: اَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتّٰى يَصْطَلِحَا ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " تفتح أبواب الجنة يوم الخميس فيغفر لكل عبد لا يشرك بالله شيئا إلا رجل كانت بينه وبين أخيه شحناء فيقال: انظروا هذين حتى يصطلحا ". رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں ۱∞؎تو ہر اس بندے کی بخشش کردی جاتی ہے جو کسی چیز کو الله کا شریک نہ جانے سواء اس شخص کے جس کے اور اس کے بھائی کے درمیان عداوت ہو ۲؎تو کہا جاتا ہے کہ انہیں مہلت دو حتی کہ آپس میں صلح کرلیں ۳؎(مسلم)۴؎

شرح حدیث

۱∞؎چونکہ جنت کے طبقے بہت ہیں ہر طبقہ کا علیٰحدہ دروازہ ہے اس لیے ابواب جمع فرمایا گیا یا خود جنت ہی کے بہت دروازے ہیں جیساکہ دوسری روایت میں ہے۔جنت کے بعض دروازے وہ ہیں جو سال بھر تک ہر دو شنبہ و جمعہ کو کھلتے ہیں،بعض دروازے وہ ہیں جو ماہ رمضان میں کھلتے ہیں لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں جس میں ہے کہ ہر رمضان میں دو دروازے کھلتے ہیں یہ دروازے کھلنا عام رحمت و مغفرت کے لیے ہیں۔
۲
؎لایشرك باللهسے مراد ہے مؤمن ہونا ورنہ جو مشرک نہ ہو مگر ہو کافر وہ بھی نہ بخشا جاوے گا،عداوت سے مراد دنیاوی دشمنی ہے۔
۳
؎ظاہر یہ ہے کہ ان دونوں شخصوں کی مغفرت صلح پر موقو ف ہے جب کہ ان میں سے کسی نے صلح کی کوشش نہ کی لیکن اگر ایک نے تو صلح کی کوشش کی مگر دوسرا راضی نہ ہوا ہو تو اس دوسرے کو نہ بخشا جاوے گا اس میں تمام وہ قیود یاد رکھو جو ابھی پہلے عرض کی جاچکی ہیں۔
۴
؎یہ حدیث بخاری نے اپنی کتاب ادب المفرد میں اور ابوداؤد ترمذی نے بھی ان ہی سے روایت فرمائی۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5029