Main Icon

باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5039

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَبَّ إِلَيْكُمْ دَاءُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمُ الْحَسَدُ وَالْبَغْضَاءُ هِيَ الْحَالِقَةُ لَا أَقُولُ تَحْلِقُ الشَّعْرَ وَلٰكِنْ تَحْلِقُ الدِّيْنَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ

وعن الزبير قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: دب إليكم داء الأمم قبلكم الحسد والبغضاء هي الحالقة لا أقول تحلق الشعر ولكن تحلق الدين . رواه أحمد والترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت زبیر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے تم میں پچھلی امتوں کی بیماری سرایت کر گئی ۱∞؎حسد اور بغض ۲؎یہ مونڈ دینے والی ہے میں نہیں کہتا کہ بال مونڈتی ہے لیکن یہ دین کو مونڈ دیتی ہے ۳؎(احمد،ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎دببنا ہےدبسے بمعنی آہستہ آہستہ چلنا اس سے ہےدبیباس سے ہےدابۃبمعنی جانور،سرایت کر جانے کودباس لیے کہتے ہیں کہ وہ محسوس نہیں ہوتی اوردل میں اتر جاتی ہے یہاں بمعنی سرایت ہے۔
۲
؎حسد سے مراد ہے دلی خفیہ دشمنی،بغض سے مراد ہے علانیہ دشمنی یا حسد کسی سے جلنا اس کی نعمت کا زوال چاہنا،بغض دشمنی دل میں رکھنا۔
۳
؎اس طرح کہ دین و ایمان کو جڑ سے ختم کردیتی ہے کبھی انسان بغض و حسد میں اسلام ہی چھوڑ دیتا ہے، شیطان بھی انہیں دو بیماریوں کا مارا ہوا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5039