Main Icon

باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5042

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي صِرْمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ ضَارَّ ضَارَّ اللّٰهُ بِهٖ وَمَنْ شَاقَّ شَاقَّ اللّٰهُ عَلَيْهِ . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ

وعن أبي صرمة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من ضار ضار الله به ومن شاق شاق الله عليه . رواه ابن ماجه والترمذي وقال: هذا حديث غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو صرمہ سے ۱∞؎کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو نقصان پہنچائے گا اسے الله نقصان دے گا ۲؎اور جوکسی سے مخالفت کرے گا الله اس سے مخالفت کرے گا ۳؎(ا بن ماجہ،ترمذی)اور ترمذی نے کہا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام مالک ابن قیس مازنی ہے،بدر وغیرہ تمام غزوات میں شریک رہے،آپ کی کنیت ابو صرمہ ہے،آپ زمانہ جاہلیت میں بھی ملتِ ابراہیمی پر عبادت الٰہی کرتے تھے،بہت بڑی عمر میں اسلام لائے،آپ سے حضرت ابن عباس نے روایات لیں۔ (مرقات و اشعہ)۲؎یعنی جو کسی مسلمان کو ابتداءً نقصان پہنچائے جانی یا مالی۔ابتداءً کی قید اس لیے لگائی کہ نقصان کے عوض نقصان پہنچانا سزا کے طور پر جائز ہے،رب تعالیٰ فرماتاہے:"جَزٰٓؤُا سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثْلُہَا
۳
؎یعنی جو کسی مسلمان سے دشمنی کرے گا رب تعالیٰ اسے مردودکرے گا۔دشمنی سے وہ ہی مراد کہ بلاوجہ شرعی مسلمان سے عداوت رکھنا۔شاقبنا ہےشقسے بمعنی کروٹ یا چہرہ کی مخالفت کومشاقۃاس لیے کہتے ہیں کہ اس میں ہر شخص دوسرے سے منہ پھیر لیتا ہے اس سے آنکھیں نہیں ملاتا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5042