Main Icon

باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5028

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللّٰهِ إِخْوَانًا . وَفِي رِوَايَة: وَلَا تَنَافَسُوْا . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إياكم والظن فإن الظن أكذب الحديث ولا تحسسوا ولا تجسسوا ولا تناجشوا ولا تحاسدوا ولا تباغضوا ولا تدابروا وكونوا عباد الله إخوانا . وفي رواية: ولا تنافسوا . (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ اپنے کو بدگمانی سے بچاؤ ۱∞؎کہ بدگمانی بدترین جھوٹ ہے ۲؎اور نہ تو عیب جوئی کرو نہ کسی کی باتیں خفیہ سنو ۳؎اور نہ نجش کرو اور نہ ایک دوسرے سے حسد و بغض کرو۴؎نہ ایک دوسرے کی غیبت کرو اور اے الله کے بندو بھائی بھائی ہوجاؤ ۵؎اور ایک روایت میں ہے اور نہ نفسانیت کرو ۶؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہاںظنسے مراد مجتہدین علماء کا قیاس نہیں بلکہ بلا دلیل بلا ثبوت مسلمان بھائی کے متعلق بدگمانی کرلینا ہے کہ خواہ مخواہ کسی کو اپنا دشمن سمجھ لینا،اس کے ہر قول ہر کام کو اپنی دشمنی قرار دے دینا یہ برا ہے کہ یہ لڑائی فساد کی جڑ ہے،بعض عورتوں کو بلاوجہ شبہ ہوتا ہے کہ فلاں نے مجھ پر جادو کرایا ہے اگرگھر میں کسی کو اتفاقًا بخار آگیا یا جانور نے دودھ کم دیا تو اپنے پڑوسیوں پر جادو تعویذ گنڈے کی بدگمانی کرکے دل میں گرہ رکھ لی یہ ممنوع ہے۔
۲
؎کیونکہ ایسی بدگمانیاں شیطان کی طرف سے ہوتی ہیں اور شیطان بڑا جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ بھی بڑے ہی ہوتے ہیں، قرآن کریم فرماتاہے:"اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ"وہ آیت کریمہ اس حدیث پاک کی تاکیدکرتی ہے۔
۳
؎تحسح سے کسی کی باتیں خفیہ طور پر سننا کہ اسے خبر نہ ہو۔تجسّسجیم سے کسی کے خفیہ عیب کی تلاش میں رہناحساورجسمیں اور بھی چند طرح فرق کیا گیا ہے۔غرضکہ کسی کی ہر بات پر کان لگائے رہنا،کسی کے ہر کام کی تلاش میں رہنا کہ کوئی برائی ملے تو میں اسے بدنام کردوں دونوں حرام ہیں۔حدیث شریف میں ہے کہ مبارک ہو کہ جسے اپنے عیبوں کی تلاش دوسروں کی عیب جوئی سے باز رکھے۔ (مرقات)یعنی وہ اپنے عیب ڈھونڈنے میں ان سے توبہ کرنے میں ایسا مشغول ہو کہ اسے دوسروں کے عیب ڈھونڈنے کا وقت ہی نہ ملے۔
نہ تھی اپنے جو عیبوں کی ہم کو خبر رہے دیکھتے اوروں کے عیب و ہنر
پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر تو جہاں میں کوئی برا نہ رہا
۴
؎تناجشبنا ہےنجشسے،نجشکے چند معنی ہیں: دوسروں پر اپنی بڑائی چاہنا،دھوکا دینا،نیلام میں قیمت بڑھا دینا خریدنے کی نیت نہ ہو یہ سب حرام ہے۔حسد کے معنی ہیں دوسرے کی نعمت کا زوال اپنے لیے اس کا حصول چاہنا کہ اس کے پاس نہ رہے میرے پاس آجائے یہ حرام ہے،شیطان کو حسد نے ہی مارا بغض دل میں کینہ رکھنا۔
۵
؎یعنی بدگمانی،حسد،بغض وغیرہ وہ چیزیں ہیں جن سے محبت ٹوٹتی ہے اور اسلامی بھائی چارہ محبت چاہتا ہے لہذا یہ عیوب چھوڑو تاکہ بھائی بھائی بن جاؤ۔
۶
؎تنافسکے بہت معنی ہیں: رغبت کرنا،لالچ کرنا،نفسانیت سے فساد پھیلانا یہاں بمعنی نفسانیت و فساد ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5028