Main Icon

باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5051

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَادَ الْفَقْرُ أَنْ يَكُونَ كُفْرًا وَكَادَ الْحَسَدُ أَنْ يَّغْلِبَ الْقَدرَ

وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: كاد الفقر أن يكون كفرا وكاد الحسد أن يغلب القدر

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فقیری قریب ہے کہ کفر ہوجاوے ۱∞؎اور حسد قریب ہے کہ تقدیر پر غالب آجاوے ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎فقیر آدمی کبھی الله تعالیٰ پر اعتراض کردیتا ہے کہ تو نے مجھ پر ظلم کیا کہ فقیر کردیا،کبھی لوگوں سے الله کی شکایت کرتا ہے، کبھی مال حاصل کرنے اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے اسلام چھوڑکر دوسرے مذہب میں داخل ہوجاتا ہے اپنے دین کو فروخت کر ڈالتا ہے،کبھی رضا بالقضاء سے منہ موڑ لیتا ہے یہ سب کفر یا سبب کفر ہیں،امیری کے فتنوں سے غریبی کے فتنے زیادہ ہیں۔خیال رہے کہ فقر مع صبر الله کی رحمت ہے جس کے متعلق ارشاد ہواالفقر فخریاور فقر مع کفر(ناشکری)الله کا عذاب ہے لہذا احادیث میں تعارض نہیں،فقیر صابرکو غنی شاکر سے افضل مانا گیا ہے۔
۲
؎یعنی قریب ہے کہ حسد تقدیر کو بدل دے کیونکہ حاسد خود محسود کی تقدیر بدلنا چاہتا ہے،اس کی نعمت کا زوال چاہتا ہے اس کا کچھ نہیں بگڑتا حاسد کی نعمتیں زائل ہوجاتی ہیں،چونکہ کبھی حسد بھی کفر تک پہنچا دیتا ہے اس لیے حسد کو فقیر کے ساتھ بیان فرمایا شیطان حسد کا کافر ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5051