Main Icon

باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5041

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِيَّاكُمْ وَسُوءَ ذَاتِ الْبَيْنِ فَإِنَّهَا الْحَالِقَةُ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: إياكم وسوء ذات البين فإنها الحالقة . رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا آپس کے فساد سے بچو ۱∞؎کیونکہ یہ مونڈ دینے والی چیز ہے ۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎ذات بینکے معنی آپس والی چیز،سوءکے معنی برائی یعنی آپس والی چیز کی برائی سے بچو نہ تو تم خود آپس میں رنجش رکھو نہ دو شخصوں میں رنجش ڈالو غیبت وغیرہ کرکے کہ یہ بدترین جرم ہے بلکہ بہت سے جرموں کی جڑ ہے۔
۲
؎اس کی شرح ابھی ہوچکی کہ یا تو اس مجرم کی نیکیاں برباد ہوجانے کا سبب ہے یا جس مظلوم کے ساتھ یہ برتاوا کیا گیا اس کے گناہ معاف ہوجانے کا سبب،اس کے نامہ اعمال کو گناہوں سے ایسا صاف کردیتی ہے جیسے استرہ سر کو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5041