Main Icon

باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5047

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْمُسْتَوْرِدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أَكَلَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ أُكْلَةً فَإِنَّ اللّٰهَ يُطعِمُهٗ مِثْلَهَا مِنْ جَهَنَّمَ وَمَنْ كَسَا ثَوْبًا بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ فَإِنَّ اللّٰهَ يَكْسُوهُ مِثْلَهٗ مِنْ جَهَنَّمَ وَمَنْ قَامَ بِرَجُلٍ مَقَامَ سُمْعَةٍ وَرِيَاءٍ فَإِنَّ اللّٰهَ يَقُومُ لَهٗ مَقَامَ سُمْعَةٍ وَ رِيَاءٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن المستورد عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من أكل برجل مسلم أكلة فإن الله يطعمه مثلها من جهنم ومن كسا ثوبا برجل مسلم فإن الله يكسوه مثله من جهنم ومن قام برجل مقام سمعة ورياء فإن الله يقوم له مقام سمعة و رياء يوم القيامة . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت مستورد سے ۱∞؎وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا جو کسی مسلمان آدمی مشغول ہو کر کچھ لقمے کھائے ۲؎تو الله اسے اس کی مثل دوزخ میں کھلائے گا۳؎اور جوکسی مسلمان آدمی کی وجہ سے کپڑا پہنایا جاوے تو الله اسے اس کی مثل دوزخ سے پہنائے گا۴؎اور جوکسی شخص کی وجہ سے سنانے اور دکھانے کی جگہ میں کھڑا ہو تو الله اسے قیامت کے دن سنانے اور دکھانے کی جگہ کھڑا کرے گا ۵؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام مستورد ابن شداد ہے،کوفی ہیں،آخر میں مصر میں رہے،حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے وقت کمسن تھے،صحابی ہیں،آپ سے بہت صحابہ نے احادیث نقل کیں۔
۲
؎اس طرح کہ دو لڑے ہوئے مسلمانوں میں سے ایک کے پاس جاوے اور اسے خوش کرنے کے لیے دوسرے کی غیبت کرے،اسے برا کہے،اسے نقصان پہنچانے کی تدبیریں بتائے تاکہ اس ذریعہ یہ شخص اسے کچھ دیدے یا کھلاوے ایسے خوشامدی لوگ آج کل بہت ہیں۔
۳
؎یہ دوزخ کی آگ کے انگارے ان لقموں کی عوض میں جس قدر یہاں لقمے کھائے اتنے ہی وہاں انگارے کھائے گا۔
۴
؎اس کا مطلب گزشتہ مضمون سے واضح ہے کہ جو کسی کو خوش کرنے کے لیے مسلمان بھائی کی غیبت کرے یا اسے ستائے اس غیبت وغیرہ کی عوض کپڑوں کا جوڑا پائے تو اسے قیامت میں اس جوڑے کی عوض آگ کا جوڑا پہنایا جائے گا۔
۵
؎اس فرمان عالی کے بہت معنی ہیں: ایک یہ کہ جو شخص کسی مشہور شریف آدمی کی پگڑی اچھالے اس کا مقابلہ کرے تاکہ اس مقابلہ سے میری شہرت ہو،دوسرے یہ کہ جوکسی شخص کو دنیا میں جھوٹے طریقہ سے اچھالے تاکہ اس کے ذریعہ مجھے عزت و روزی ملے جیسے آج کل بعض جھوٹے پیروں کے مرید اس کی جھوٹی کرامتیں بیان کرتے پھرتے ہیں تاکہ ہم کو بھی اس کے ذریعہ عزت ملے کہ ہم اس کے بالکے ہیں۔(اشعہ)تیسرے یہ کہ جو شخص دنیا میں نام و نمود چاہے نیکیاں کرے مگر ناموری کے لیے یا جو شخص کسی کے ذریعہ سے اپنے کو مشہور و نامور کرے قیامت میں ایسے شخصوں کو عام رسوا کیا جاوے گا کہ فرشتہ اسے اونچی جگہ کھڑا کرکے اعلان کرے گا کہ لوگو یہ بڑا جھوٹا مکار فریبی تھا۔(مرقات ولمعات وغیرہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5047