Main Icon

باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5037

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَحِلُّ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَهْجُرَ مُؤْمِنًا فَوْقَ ثَلَاثٍ فَإِنْ مَرَّتْ بِهٖ ثَلَاثٌ فَلْيَلْقِهٖ فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْهِ فَإِنْ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ فَقَدِ اشْتَرَكَا فِي الْأَجْرِ وَإِنْ لَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ فَقَدْ بَاءَ بِالْإِثْمِ وَخَرَجَ المُسلِّمُ مِنَ الْهِجْرَةِ . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا يحل لمؤمن أن يهجر مؤمنا فوق ثلاث فإن مرت به ثلاث فليلقه فليسلم عليه فإن رد عليه السلام فقد اشتركا في الأجر وإن لم يرد عليه فقد باء بالإثم وخرج المسلم من الهجرة . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ کسی مسلمان کو یہ حلال نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رہے ۱∞؎تو اگر اس پر تین دن گزر جاویں تو یہ اس سے ملے اسے سلام کرے پھر اگر وہ اسے سلام کا جواب دے دے تو دونوں ثواب میں شریک ہوگئے ۲؎اور اگر جواب نہ دے تو وہ گناہ کے ساتھ لوٹا سلام کرنے والا چھوڑنے سے نکل گیا ۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎اس کی شرح اور وجہ پہلے عرض کی جاچکی۔
۲
؎اصل ثواب میں برابر ہوگئے اگرچہ سلام کی ابتداء کرنے والا اور دوسرے سے ملنے کے لیے جانے والا بڑے ثواب کا مستحق ہے لہذا یہ حدیث گزشتہ حدیث کے خلاف نہیں جس میں صلح کی ابتداء کرنے والے کا درجہ بڑا فرمایا گیا۔
۳
؎یعنی تین دن تک جو جدائی رہی اس کے گنہگار دونوں تھے اب اس عمل سے یہ صلح میں پیش قدمی کرنے والا تو گناہ سے نکل گیا مگر دوسرا منہ موڑنے والا گناہ میں گرفتار رہا بلکہ یہ دوسرا گناہ اس پر ہوا صلح سے منہ پھیرنا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5037