Main Icon

باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5034

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ مُسْلِمًا فَوْقَ ثَلَاثَۃٍ فَإِذَا لَقِيَهُ سَلَّمَ عَلَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ كُلُّ ذٰلِكَ لَا يَرُدُّ عَلَيْهِ فَقَدْ بَاءَ بِإِثْمِهٖ . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لا يحل لمسلم أن يهجر مسلما فوق ثلاثۃ فإذا لقيه سلم عليه ثلاث مرات كل ذلك لا يرد عليه فقد باء بإثمه . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان کو یہ جائز نہیں کہ کسی مسلمان کو تین دن سے زیادہ چھوڑے ۱∞؎تو جب اس سے ملے تو اسے تین بار سلام کرے ۲؎ہر بار میں وہ دوسرا اسے جواب نہ دے تو وہ اس کا گناہ لے کر لوٹا ۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی بہتر تو یہ ہے کہ تین دن کے لیے بھی نہ چھوڑے لیکن تین دن کے بعد چھوڑے رکھنا تو گناہ ہے اس کی وہ تمام قیدیں خیال میں رہیں جو پہلے بیان ہوئیں۔
۲
؎اگر پہلی بار میں جواب نہ دے تو دوبارہ کرے،اگر دوبار میں بھی جواب نہ دے تو تیسری بار کرے،اگر تیسری بار میں بھی جواب نہ دے تو چوتھی بار نہ کرے کہ تین بار اس سلام کی حد ہے۔یہ سلام مصالحت ہے نہ کہ سلام ملاقات کیونکہ ملاقات کا سلام ایک بار ہوتا ہے،سلام بہت قسم کا ہے اور اس کے الگ الگ احکام۔
۳
؎باثمہکی ضمیر میں دو احتمال ہیں یا تو یہ سلام کرنے والے کی طرف لوٹ رہی ہے یا اسے رد نہ کرنے والے کی طرف یعنی اگر تین سلاموں کا جواب نہ دیا تو تین دن تک غصہ رہنے کا گناہ جو دونوں کو ہونا تھا اب دوسرے کا گناہ بھی اس پر پڑے گا یا اس چھوڑے رہنے کا گناہ اب صرف اس پر ہوگا وہ سلام کرنے والا گناہ سے بری ہوگیا یا جواب نہ دینے کا گناہ اس پر ہوگا کیونکہ سلام کرنا سنت ہے اور سلام کا جواب دینا فرض ہے۔خیال رہے کہ ہر سلام کا جواب دینا فرض نہیں بلکہ مسلمان کے سلام تحیت کا جواب دینا فرض ہے،تحیت کے علاوہ دوسرے سلاموں کا جواب دینا فرض نہیں،رب تعالیٰ فرماتاہے:"وَ اِذَا حُیِّیۡتُمۡ بِتَحِیَّۃٍ فَحَیُّوۡا بِاَحْسَنَ مِنْہَاۤ اَوْ رُدُّوۡھَا"۔اس آیت میںسلام علیکمنہ فرمایا بلکہحییتمارشاد ہوا اسی حکمت کی بنا پر۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5034