Main Icon

باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5973

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

عَن عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا تَرَكَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيْنَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَلَا شَاةً وَلَا بَعِيرًا وَلَا أَوْصٰى بِشَيْءٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

عن عائشة قالت: ما ترك رسول الله صلى الله عليه وسلم دينارا ولا درهما ولا شاة ولا بعيرا ولا أوصى بشيء. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ دینار چھوڑا نہ درہم نہ بکری نہ اونٹ ۱؎اور نہ کسی چیز کی وصیت فرمائی ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ان چیزوں میں سے کچھ بھی میراث بنا کر نہ چھوڑی جو کچھ چھوڑا وہ وقف فی سبیل اللہ کرکے چھوڑا کہ ان کا وارث کوئی نہ ہو سارے مسلمان فائدہ اٹھائیں۔لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ حضور انور نے اپنے ایک خچر اور قصوا اونٹنی اور نو حجرے اور بنی نضیر کے مال اور فدک باغ چھوڑے کیونکہ یہ سب کچھ وقف فی سبیل اللہ ہوئے کسی وارث کو کچھ نہ ملا۔دیکھ لو کہ نو حجرے روضہ اطہر بنا دیئے گئے،اس میں حضور انور اور جناب صدیق وفاروق کی قبریں بنیں۔مقبرہ وقف ہوتا ہے کسی کی ملک نہیں ہوتا، بقیہ سارے مالوں کا یہ ہی حال ہوا۔کتب تواریخ میں جو آتا ہے کہ حضور انور کی بیس اونٹنیاں بہت سے اونٹ اور سات بکریاں سات بھیڑیں تھیں وہ غلط ہے،اس حدیث نے ان سب کی نفی کردی وہ جانور صدقات کے تھے ان کا حضور انور انتظام فرماتے تھے۔(از مرقات ولمعات)اس کی تصریح ابھی آگے آرہی ہے۔
۲
؎یعنی اپنے کسی مال کی وصیت کسی کے لیے نہیں کی کہ فلاں مال فلاں کو دینا ورنہ حضور انور نے نماز تقویٰ طہارت کی وصیت ساری امت کو فرمائی۔خیال رہے کہ جس مال کی میراث تقسیم نہیں ہوتی اس کی وصیت بھی نہیں ہوسکتی،میراث اور وصیت گویا ہم جنس ہیں۔جب حضور انور کا مال قابل میراث نہیں تو قابل وصیت بھی نہیں۔بعض لوگ ام المؤمنین سے کہتے تھے کہ حضرت علی حضور کے وصی ہیں،آپ نے باغ فدک وغیرہ کی وصیت انہیں کی تھی تو آپ تردید میں فرماتی تھیں کہ حضور انور کا وصال تو میرے سینہ پر ہوا وصیت کس وقت کردی وصال کے وقت تو میں موجود تھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5973