Main Icon

باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5977

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي مُوسٰى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهٗ قَالَ: «إِنَّ اللّٰهَ إِذَا أَرَادَ رَحْمَةَ أُمَّةٍ مِنْ عِبَادِهٖ قَبَضَ نَبِيَّهَا قَبْلَهَا فَجَعَلَهٗ لَهَا فَرَطًا وَسَلَفًا بَيْنَ يَدَيْهَا وَإِذَا أَرَادَ هَلَكَةَ أُمَّةٍ عَذَّبَهَا وَنَبِيُّهَا حَيٌّ فَأَهْلَكَهَا وَهُوَ يَنْظُرُ فَأَقَرَّ عَيْنَيْهِ بِهَلَكَتِهَا حِينَ كَذَّبُوهٗ وَعَصَوْا أَمْرَهٗ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: «إن الله إذا أراد رحمة أمة من عباده قبض نبيها قبلها فجعله لها فرطا وسلفا بين يديها وإذا أراد هلكة أمة عذبها ونبيها حي فأهلكها وهو ينظر فأقر عينيه بهلكتها حين كذبوه وعصوا أمره» . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی کہ آپ نے فرمایا کہ اللہ جب اپنے بندوں میں سے کسی گروہ پر رحمت چاہتا ہے تو اس کے نبی کو اس سے پہلے وفات دیتا ہے پھر اس نبی کو اس کے آگے پیشرو بناتا ہے ۱؎اور جب کسی گروہ کی ہلاکت کا ارادہ کرتا ہے تو اسے اس کے نبی کی زندگی میں عذاب دیتا ہے کہ نبی اسے دیکھتا ہے پھر اس کی ہلاکت سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرتا ہے جب وہ اسے جھٹلاتے ہیں ۲؎اور اس کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔(مسلم )

شرح حدیث

۱∞؎یہاںسلفاورفرطایک ہی معنی میں ہیں اس کی تحقیق پہلے ہوچکی ہے۔مؤمن مرکر نہ تو لاوارث ہوتا ہے نہ اجنبی گھر میں جاتا ہے،اس کے والی وارث حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس سے پہلے وہاں پہنچ چکے ہیں،ان کی آغوش رحمت میں جاتاہے بھرے گھر میں اترتا ہے۔
۲
؎اللہ تعالٰی نے گذشتہ جلالی نبیوں کی نافرمان امتوں کو ان کے سامنے ہلاک فرماکر ان کی آنکھیں ٹھنڈی کیں اور ہمارے حضور کی نافرمان امت کو حضور کے سامنے ہی ہدایت دے کر آپ کا مطیع بناکر آپ کی آنکھیں ٹھنڈی کیں۔چنانچہ مکہ معظمہ کے نافرمان کافر فتح مکہ کے دن سارے کے سارے ایمان لائے حضور کے مطیع ہوئے۔جلالی پیغمبروں کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور ہے حضور کی آنکھوں کی ٹھنڈک کچھ اور،ہر آنکھ کے لیے ٹھنڈا سرمہ علیحدہ ہے۔خیال رہے کہ حضور انور بھی ہر مؤمن کی آنکھ کی ٹھنڈک،دل کا چین،بے قراروں کا قرار،بے کسوں کے کس،بے بسوں کے بس،بے سہاروں کے سہارا ہیں؎تم ہو دوائے درد دل تم ہو قرار بے قرار دل کی لگی میرے نبی تیرے سوا بجھائے کون

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5977