Main Icon

باب: میراث کے حصّے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3041

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَنَا أَوْلٰى بِالمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ فَمَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ وَلَمْ يَتْرُكْ وَفَاءً فَعَلَيَّ قَضَاؤُهٗ . وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهٖ ».وَفِي رِوَايَةٍ: "مَنْ تَرَكَ دَيْنًاأَو ضِيَاعًا فَلْيَأْتِنِي فَأَنَا مَوْلَاهُ».وَفِي رِوَايَةٍ: «مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهٖ وَمَنْ تَرَكَ كَلًّا فَإِلَيْنَا»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «أنا أولى بالمؤمنين من أنفسهم فمن مات وعليه دين ولم يترك وفاء فعلي قضاؤه . ومن ترك مالا فلورثته ».وفي رواية: "من ترك ديناأو ضياعا فليأتني فأنا مولاه».وفي رواية: «من ترك مالا فلورثته ومن ترك كلا فإلينا»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی کہ فرمایا میں مسلمانوں کا ان کی جانوں سے زیادہ والی ہوں ۱؎جو مرجائے اور اس پر قرض ہو جس کی ادا کا ذریعہ نہ چھوڑے اس کی ادائیگی مجھ پر ہے ۲؎اورجو مال چھوڑے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے ۳؎اور ایک روایت میں یوں ہے کہ جو قرض یا بال بچے چھوڑے تو میرے پاس آئے ۴؎تو میں اس کا والی ہوں ایک روایت میں یوں ہے کہ جو مال چھوڑے تو اس کے وارثوں کا ہے اور جو بوجھ چھوڑ دے وہ ہمارے ذمہ ہے ۵؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس فرمان عالی میں اس آیت کریمہ کی طرف اشارہ ہے"اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالمُؤْمِنِیۡنَ مِنْ اَنۡفُسِھِمْ"اوراولٰیکے معنی ہیں زیادہ قریب،زیادہ والی وارث،زیادہ خیرخواہ،زیادہ مالک،یہاں شیخ نے اولٰی کے معنی زیادہ خیر خواہ کئے یعنی جس قدر مسلمان اپنے خیرخواہ ہیں اس سے زیادہ میں ان کا خیرخواہ ہوں،میں نہیں چاہتا کہ میرا کوئی امتی بعد موت قرض میں گرفتار رہے۔
۲
؎یعنی سارے مقروض نادار مسلمانوں کا قرض ان کی موت کے بعد ہم ادا کریں گے خواہ مدینہ کے مسلمان ہوں یا کسی اور جگہ کے تاکہ میری امت بارگاہ الٰہی میں گرفتار نہ رہے۔
۳
؎یعنی اگر مال چھوڑے اور اس پر قرض نہ ہو تو مال وارثوں اور اگر قرض بھی ہو تو ادائے قرض کے بعد سب مال وارثوں کا لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ قرض کا ذکر کیوں نہ فرمایا،میراث بعد ادائے قرض تقسیم ہوتی ہے کیونکہ قرض کا ذکر تو پہلے ہوچکا۔
۴
؎میت کا وصی یا اس کا وکیل میت کے بال بچوں کی ہم کو خبر دے ہم قرض ادا فرمائیں گے اس کے بال بچوں کو پالیں گے۔ضیاعجمعضائعکی ہے جیسےجائعکی جمعجیاع،ضائعکے معنی ہیں برباد ہوجانے والی چیز جس کے برباد ہونے کا خطرہ ہو جیسے چھوٹے بچے یا بیوہ عورت جو دوسرا نکاح نہ کرسکے ان سب کو حضور پالتے ہیں،بیوگان اور یتیموں کے والی وارث حضور ہی تھے اور ہیں۔
۵
؎کلّیعنی بوجھ سے مراد قرض اور چھوٹے بچے بیوہ بیوی ہے اس کی شرح پہلی حدیث میں گزری،رب تعالٰی فرماتاہے:"بِ المُؤْمِنِیۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ"حضور انور مسلمانوں پر بڑے مہربان رحمت والے ہیں،یہ اس ہی کی رحمت کا ظہور ہے۔خیال رہے کہ حضور انور کی رحمت عامہ تمام جہاں پر ہے،اس لحاظ سے فرمایا کیارحمۃ للعالمیناور رحمت خاصہ صرف مسلمانوں پر ہے اس لحاظ سے ارشاد ہوا "بِ المُؤْمِنِیۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3041