Main Icon

باب: میراث کے حصّے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3066

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَرِثُ الْوَلَاءَ مَنْ يَرِثُ الْمَالَ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ إِسْنَادُهٗ لَيْسَ بِالقَوِيِّ

وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: يرث الولاء من يرث المال . رواه الترمذي وقال: هذا حديث إسناده ليس بالقوي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمرو بن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا ولاء کا وارث وہ ہی عصبہ ہوگا جو مال کا وارث ہوگا ۱؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا اس حدیث کی اسنادقوی نہیں۔

شرح حدیث

۱∞؎ولاواؤ کے فتح سے بمعنی قرب،یہاں قرب عبدیت مراد ہے جس سے مولٰی کو غلام کے متروکہ مال کے وارث ہونے کا حق حاصل ہوتا ہے۔حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جس غلام کو مولٰی نے آزاد کیا تو غلام کے فوت ہونے پر اگر مولٰی زندہ ہوتو وہ میراث لے گا ورنہ اس کے عصبہ بنفسہ وارثین میراث لیں گے،مولٰی کی زوجہ کو ولاء نہیں ملتی،عورت صرف اپنے آزاد کردہ غلام یا اس غلام کے آزاد کردہ غلام ہی کی میراث پائے گی،عصبۃً ولاء نہ پائے گی کہ زوجہ عصبہ ہوتی ہی نہیں،ولاء بیت المال کو نہیں ملا کرتی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3066