Main Icon

باب: میراث کے حصّے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3062

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ فِي الْجَدَّةِ مَعَ ابْنِهَا: أَنَّهَا أَوَّلُ جَدَّةٍ أَطْعَمَهَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُدُسًا مَعَ ابْنِهَا وَابْنُهَا حَيٌّ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ ضَعَّفَهٗ

وعن ابن مسعود قال في الجدة مع ابنها: أنها أول جدة أطعمها رسول الله صلى الله عليه وسلم سدسا مع ابنها وابنها حي. رواه الترمذي والدارمي والترمذي ضعفه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے وہ دادی کے متعلق جو اپنے بیٹے کے ساتھ ہو فرماتے ہیں کہ یہ پہلی وہ دادی ہے جسے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اس کے بیٹے کے ساتھ جب کہ بیٹا زندہ ہو چھٹا حصہ دیا ۱؎(ترمذی،دارمی)ترمذی نے اس حدیث کو ضعیف بتایا۔

شرح حدیث

۱∞؎اس سے معلوم ہوا کہ دادی باپ کے ہوتے بھی میراث پائے گی باپ کی وجہ سے محروم نہ ہوگی،یہ ہی چند صحابہ اور بعض فقہاء کا مذہب ہے۔عام صحابہ و علماء فرماتے ہیں کہ باپ کے ہوتے دادی محروم ہے،یہ حدیث اولًا تو ضعیف ہے،اگر صحیح بھی ہو تو حضور انور کا یہ فرمان و عطیہ بطورمیراث نہ تھا بلکہ بغیر توارث ویسے ہی عطا فرمایا جیسا کہ حکم قرآن ہے کہ اگر تقسیم میراث کے وقت بعض محروم قرابت دار موجود ہوں تو انہیں کو دے دو،فرمایا:"وَ اِذَا حَضَرَ الْقِسْمَۃَ اُولُوا الْقُرْبٰی وَ الْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیۡنُ فَارْزُقُوۡهُمۡ"یا میت کا باپ کافر تھا یا غلام کہ میراث کا مستحق نہ تھا اور محروم وارث دوسرے کو محروم نہیں کرتا۔(مرقات و لمعات و اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3062