Main Icon

باب: میراث کے حصّے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3052

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْمِقْدَامِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا أَوْلٰى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهٖ فَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيْعَةً فَإِلَيْنَا وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهٖ وَأَنَا مَوْلٰى مَنْ لَا مَوْلٰى لَهٗ أَرِثُ مَالَهٗ وَأَفُكُّ عَانَهٗ وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهٗ يَرِثُ مَالَهٗ وَ يَفُكُّ عَانَهُ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «وَأَنَا وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهٗ أَعْقِلُ عَنْهُ وَأَرِثُهٗ وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهٗ يَعْقِلُ عَنْهُ وَيَرِثُهٗ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن المقدام قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أنا أولى بكل مؤمن من نفسه فمن ترك دينا أو ضيعة فإلينا ومن ترك مالا فلورثته وأنا مولى من لا مولى له أرث ماله وأفك عانه والخال وارث من لا وارث له يرث ماله و يفك عانه» . وفي رواية: «وأنا وارث من لا وارث له أعقل عنه وأرثه والخال وارث من لا وارث له يعقل عنه ويرثه» . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت مقدام سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے میں ہر مسلمان کا اس کی جان سے زیادہ والی ہوں جو قرض یا بال بچے چھوڑے وہ ہماری سپرد ہے ۱؎اور جو مال چھوڑے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے ۲؎میں اس کا والی ہوں جس کا کوئی والی نہیں میں اس کے مال کا وارث ہوں گا ۳؎اور اس کے قیدی کو چھوڑاؤں گا اور ماموں اس کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہیں کہ اس کے مال کا وارث ہوگا ۴؎اور اس کا قیدی چھوڑائے گا ۵؎اور ایک روایت میں یوں ہے کہ میں وارث ہوں اس کا جس کا کوئی وارث نہیں کہ اس کی دیت بھی دوں گا اور اس کا وارث بھی ہوں گا ۶؎اور ماموں وارث ہے اس کا جس کا کوئی وارث نہ ہو کہ اس کی دیت دے گا اور میراث لے گا۔(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎کہ اس کا قرض بھی ہم ادا کریں گے اور اس کے یتیم بچوں کو بھی ہم پالیں گے اس کی شرح ابھی کچھ پہلے گزرگئی۔
۲
؎ہم اس مال سے کچھ نہ لیں گے بلکہ تجہیزوتکفین،ادائے قرض،اجرائے وصیت کے بعد اس کے وارثوں کا ہوگا۔
۳
؎یعنی اگر میت کا کوئی وارث نہ ہو تو اس کا مال بیت المال میں جائے گا کہ بیت المالاللّٰهرسول کا ہے لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ حضرات انبیاءکرام نہ کسی کے وارث ہوں نہ مورث۔
۴
؎یعنی جس میت کا ذی فرض و عصبہ نہ ہو اس کے وارث ماموں،خالہ وغیرہ تمام ذی رحم بالترتیب ہیں اور اگر غیر ذی فرض ہے جیسے بیوی یا خاوند تو بھی ذی رحم وارثوں کو میراث ملے گی۔خیال رہے کہ ذی رحم کی وراثت کے امام شافعی و امام مالک منکر ہیں،ان کے ہاں ذی فرض و عصبہ کے نہ ہونے پر مال بیت المال میں جائے گا مگر ہمارے ہاں ذی رحم بھی وارث ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَاُوْلُوا الۡاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰی بِبَعْضٍ فِیۡ کِتٰبِ اللّٰهِ"اس آیت نے عقدمواخات کی میراث کو منسوخ فرما کر رشتہ داروں کو وارث بنایا اور ان میں ذی رحم وارثوں کو لے لیا،نیز سہل ابن حنیف جب قتل کئے گئے تو ان کا ایک ماموں ہی تھا اور کوئی عزیز نہ تھا،حضرت ابو عبیدہ ابن جراح کا انتقال ہوا تو حضور انور نے حضرت قیس ابن عاصم سے فرمایا کیا تم میں کوئی ان کا عزیز قریبی بھی ہے،انہوں نے عرض کیا وہ مسافر تھے،ان کا عزیز سوائے ابولبابہ ابن عبدالمنذر کے جوان کے بھانجے ہیں اور کوئی نہیں،حضور انور نے انہیں کو وارث بنایا۔جن روایات میں ہے کہ پھوپھی خالہ وارث نہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ ذی فرض یا عصبہ کے ہوتے ہوئے یہ لوگ وارث نہیں لہذا مذہب حنفی بہت قوی ہے۔(مرقات)
۵
؎یعنی بھانجہ کی دیت ماموں دے گا اور اگر بھانجہ قید ہوجائے تو ماموں فدیہ دے کر چھڑائے گا۔
۶
؎یعنی لاوارث کی دیت بیت المال سے دی جائے گی اور اس کا متروکہ مال بیت المال میں داخل ہوگا جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا۔دیت اور فدیہ کے مسائل کتب فقہ میں ملاحظہ فرمایئے اور ہمان شاءاللّٰهباب الدیتمیں عرض کریں گے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3052