Main Icon

باب: میراث کے حصّے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3043

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ وَلَا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أسامة بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا يرث المسلم الكافر ولا الكافر المسلم(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت اسامہ ابن زید سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ نہ مسلمان کافر کا وارث نہ کافر مسلمان کا ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی کفرو اسلام کا فرق میراث سے مانع ہے لہذا مؤمن باپ کی میراث کافر بیٹا نہ پائے گا اور کافر بیٹے کی میراث سے مؤمن باپ کو کچھ نہ ملے گا مگر کفر ایک ہی ملت ہے لہذا یہودی باپ کی میراث عیسائی بیٹے کو مل جائے گی۔سعید ابن مسیب،امیر معاویہ،معاذ بن جبل وغیرہم فرماتے ہیں کہ مؤمن وارث تو کافر کی میراث حاصل کرے گا مگر کافر وارث مؤمن کی میراث نہ پائے گا،الاسلام یعلو ولا یعلٰیمگر جمہور صحابہ و فقہاء کا قول ہے جو ہم نے عرض کیا کہ دو طرفہ میراث نہ ملے گی،مرتد کسی کا وارث نہیں،ہمارے ہاں زمانہ ارتداد کی کمائی بیت المال کی ہے اور زمانہ اسلام کی کمائی وارثوں کی،امام شافعی کے ہاں مرتد کسی کا وارث نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3043