Main Icon

باب: میراث کے حصّے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3045

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اِبْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)وَذُكِرَ حَدِيثُ عَائِشَةَ: «إِنَّمَا الْوَلَاءُ» فِي بَابٍ قَبْلَ "بَابِ السَّلَمِ"،وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ الْبَرَاءِ: "الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الأُمِّ" فِي "بَابِ بُلُوغِ الصَّغِيرِ وَحَضَانَتِهٖ" إِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالَى.

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ابن أخت القوم منهم» (متفق عليه)وذكر حديث عائشة: «إنما الولاء» في باب قبل "باب السلم"،وسنذكر حديث البراء: "الخالة بمنزلة الأم" في "باب بلوغ الصغير وحضانته" إن شاء الله تعالى.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ قوم کا بھانجہ ان ہی سے ہے ۱؎(مسلم،بخاری)اور حضرت عائشہ کی حدیث "انما الولاء"باب السلمسے پہلے والے باب میں ذکر کردی گئی اور حضرت براء کی حدیث کہ خالہ ماں کے درجے میں ہےان شاءاللّٰهبچے کے بلوغ اور ان کی پرورش کے باب میں ذکر کی جائے گی ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی بھانجہ بھی ذی رحم ہونے کی وجہ سے وارث ہے کہ اگر ذی فرض و عصبہ وارث نہ ہو تو اسے میراث مل سکتی ہے،یہ ہی قول امام اعظم و احمد کا ہے،دوسرے اماموں کے ہاں ذی رحم وارث نہیں،یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے۔خیال رہے کہ ذی رحم دس قسم کے ہیں:(۱)نواسے(۲)بھانجے(۳)بھتیجی(۴)چچا کی بیٹی(۵)پھوپھی کی بیٹی (۶)ماموں(۷)خالہ(۸)نانا(۹)ماں کا چچا(۱۰)پھوپھی،اخیافی بھائی کی اولاد۔(مرقات)پوری تفصیل ہماری کتاب"علم المیراث"میں ملاحظہ فرمائیے۔
۲
؎یعنی یہ دو حدیثیں مصابیح میں یہاں تھیں ہم نے مناسبت کی وجہ سے ان مقامات میں درج کیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3045