Main Icon

باب: میراث کے حصّے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3053

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ وَاثِلَةَبْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَحُوزُ الْمَرْأَةُ ثَلَاثَ مَوَارِيثَ عَتِيقَهَا وَلَقِيطَهَا وَوَلَدَهَا الَّذِي لَاعَنَتْ عَنْهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَ ابْنُ مَاجَه

وعن واثلةبن الأسقع قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «تحوز المرأة ثلاث مواريث عتيقها ولقيطها وولدها الذي لاعنت عنه» . رواه الترمذي وأبو داود و ابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت واثلہ ابن اسقع سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ایک عورت تین میراثیں سمیٹتی ہے ۱؎اپنے آزاد کردہ غلام کی اپنے پڑے پائے بچہ کی اور اپنے اس بچے کی جس پر اس نے لعان کیا ۲؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ یہ میراثیں مرد کو نہیں ملتیں صرف عورت کو ملتی ہیں۔
۲
؎عورت کے آزاد کردہ غلام کی دیت یا وراثت صرف عورت ہی کو ملے گی نہ کہ اس کے خاوند کو،پڑے ہوئے بچے کی میراث عورت کو ملنا منسوخ ہے یا یہ مطلب ہے کہ اگر اس بچہ کا اور کوئی وارث نہ ہو تو اجنبی لوگوں کے مقابل اس عورت کو اس کا مال دے دینا بہتر ہے۔حرام کا بچہ یوں ہی وہ بچہ جس کا باپ نے انکار کرکے اس پر لعان کرلیا ان دونوں کی میراث صرف ماں کو ملے گی کہ ان کا باپ توکوئی ہے ہی نہیں۔ خیال رہے کہ اسحاق ابن راھویہ فرماتے ہیں کہ لقیط یعنی پڑے ہوئے بچہ کا مال پانے والے کو ملے گا۔اس حدیث کی بنا پر مگر باقی تمام آئمہ اس کے انکاری ہیں،ان کے ہاں یہ جزء منسوخ ہے یا اس کا وہ مطلب ہے جو ابھی عرض کیا گیا۔(لمعات و مرقات)یہ حدیث قوی نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3053