Main Icon

باب: میراث کے حصّے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3049

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ بُرَيْدَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ لِلْجَدَّةِ السُّدُسَ إِذَا لَمْ تَكُنْ دُوْنَهَا أُمٌّ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن بريدة: أن النبي صلى الله عليه وسلم جعل للجدة السدس إذا لم تكن دونها أم. رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت بریدہ سے ۱؎کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے دادی کے لیے چھٹا حصہ مقرر فرمایا جب کہ اس کے اوپر ماں موجود نہ ہو ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ بریدہ ابن حُصَیب اسلمی ہیں،غزوہ بدر سے پہلے اسلام لائے مگر بدر میں شریک نہ ہوسکے،بیعۃ الرضوان میں شریک تھے،مدینہ منورہ میں رہے،آخر میں بصرہ میں قیام رہا،پھر جہاد کرتے ہوئے خراسان پہنچے،وہاں ہی یزید ابن معاویہ کے زمانہ میں ۶۲ھ؁∞ مقام مرو میں وفات پائی،آپ سے بہت صحابہ نے روایات لی ہیں۔(مرقات)
۲
؎یعنی دادی،نانی کی میراث چھٹا حصہ ہے لیکن اگر میت کی ماں موجود ہے تو دادی بھی محروم اور نانی بھی کیونکہ ان دونوں کے لیے حاجب ہے۔حجب اور منع میں فرق یہ ہے کہ کسی عزیز کا دوسرے عزیز کو محروم کردینا حجب حرمان کہلاتا ہے اور اس کا حصہ کم کردینا حجب نقصان ہے،مگر خود وارث کی اپنی حالت کا اسے میراث سے محروم کردینا منع ہے۔جیسے کفر و غلام ہونا،قتل،مال دونوں قسم کی دادی نانی کے لیے حاجب حرمان ہے۔خیال رہے کہ دادی کا کل حصہ سدس یعنی چھٹا ہے،لہذا اگر میت کی دادی بھی ہے نانی بھی تو ان دونوں کو چھٹا حصہ ملے گا جسے وہ آپس میں تقسیم کرلیں گی۔چنانچہ حاکم نے حضرت عبادہ ابن صامت سے روایۃً فرمایا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے چھٹا حصہ دادی نانی میں تقسیم فرمایا اور دادی باپ سے بھی محروم ہوجاتی ہے مگر نانی صرف ماں سے محروم ہوگی۔اس کی تفصیل ہماری کتاب"علم المیراث"اور سراجی و شریفی میں ملاحظہ فرمایئے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3049