Main Icon

باب: میراث کے حصّے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3067

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا كَانَ مِنْ مِيرَاثٍ قُسِّمَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَهُوَ عَلٰى قِسْمَةِ الْجَاهِلِيَّةِ وَمَا كَانَ مِنْ مِيرَاثٍ أَدْرَكَهُ الْإِسْلَامُ فَهُوَ عَلٰى قِسْمَةِ الْإِسْلَامِ . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

عن عبد الله بن عمر: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ما كان من ميراث قسم في الجاهلية فهو على قسمة الجاهلية وما كان من ميراث أدركه الإسلام فهو على قسمة الإسلام . رواه ابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللّٰهابن عمر سے کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جو میراث زمانہ جاہلیت میں بانٹی جاچکی تو وہ جاہلیت ہی کے بٹوارے پر رہے گی اور جس میراث کو اسلام نے پالیا تو وہ اسلام کی بانٹ پر ہوگی ۱؎(ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎اس کا مطلب بالکل واضح ہے کہ جن کفار نے اپنے دین کے مطابق میراثیں تقسیم کرلی تھیں پھر وہ مسلمان ہوگئے یا ان میں سے ایک مسلمان ہوگیا تو اب اسے تقسیم شدہ مال دوبارہ تقسیم کرنے کا حکم نہ دیا جائے گا بلکہ اس تقسیم کو باقی رکھا جائے گا یا یہ مطلب ہے کہ وارثت کے اسلامی احکام آنے سے پہلے جوتقسیم میراث ہوچکی ہیں اگرچہ مسلمانوں ہی نے کی ہوں وہ اسلامی قانون وراثت آنے پر توڑی نہ جائیں گی بلکہ باقی رکھی جائیں گی،ہاں اب اس کے بعد جو تقسیم ہوگی وہ اسلامی قانون کے مطابق ہوگی،دیکھو آج اگر کافر جوڑا اسلام لائے تو انہیں دوبارہ نکاح کرنے کا حکم نہیں دیا جاتا کہ چونکہ تمہارا کفر کا نکاح اسلامی قانون کے مطابق نہ ہوا تھا لہذا اب پھر دوبارہ ایجاب و قبول کرو بلکہ وہ ہی باقی رکھا جاتا ہے ایسے ہی یہ حکم ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3067