Main Icon

باب: میراث کے حصّے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3060

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِن ابْنِي مَاتَ فَمَا لِي مِنْ مِيرَاثِهٖ ؟ قَالَ: «لَكَ السُّدُسُ» فَلَمَّا وَلّٰى دَعَاهُ قَالَ: «لَكَ سُدُسٌ آخَرُ» فَلَمَّا وَلّٰى دَعَاهُ قَالَ: «إِنَّ السُّدُسَ الْآخَرَ طُعْمَةٌ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

وعن عمران بن حصين قال: جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إن ابني مات فما لي من ميراثه ؟ قال: «لك السدس» فلما ولى دعاه قال: «لك سدس آخر» فلما ولى دعاه قال: «إن السدس الآخر طعمة» . رواه أحمد والترمذي وأبو داود وقال الترمذي: هذا حديث حسن صحيح

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے فرماتے ہیں ایک شخص رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا بولا میرا بیٹا مرگیا ہے تو اس کی میراث میں میرا کتنا ہے ۱؎فرمایا تیرا چھٹا حصہ ہے جب اس نے پیٹھ پھیری تو اسے بلایا فرمایا تیرے لیے دوسرا چھٹا بھی ہے ۲؎پھر جب پیٹھ پھیری تو اسے بلایا فرمایا دوسرا چھٹا عصبۃً ہے۳؎(احمد،ترمذی،ابوداؤد)ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن ہے صحیح ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎اس مرحوم کی دو بیٹیاں تھیں،ایک باپ دونوں بیٹیوں کا دو تہائی جو سائل کو معلوم نہ تھا باپ کے حصے کی خبر نہ تھی اس لیے اس نے صرف باپ کا حصہ پوچھا۔
۲
؎خلاصہ یہ ہے کہ تیرے بیٹے کے متروکہ مال کے چھ حصے ہوں گے،چار تو دو بیٹیوں کے یعنی دو تہائی اور ایک تیرا یعنی چھٹا حصہ تو ذی فرض ہے،تیرا حق چھٹا حصہ ہے،باقی بچا ایک وہ بھی تجھے ہی ملے گا مگر عصبۃً۔معلوم ہوا کہ بیٹیوں کے ہوتے باپ ذی فرض بھی ہے اور عصبہ بھی،یہ ہی تمام علماء کا مذہب ہے۔
۳
؎یعنی ذی فرض ہونے کی حیثیت سے ہے تو تیرا حصہ چھٹا حصہ ہی تھا،اب جو دوبارہ تجھے چھٹا حصہ اور دیا گیا وہ عصبہ ہونے کی حیثیت سے ہے کہ تو عصبہ بھی ہے کہ بچا ہوا بھی تو ہی پائے گا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3060