Main Icon

باب: میراث کے حصّے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3068

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ أَنَّهٗ سَمِعَ أَبَاهُ كَثِيرًا يَقُولُ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَقُولُ: عَجَبًا لِلْعَمَّةِ تُورَثُ وَلَا تَرِثُ. رَوَاهُ مَالِكٌ

وعن محمد بن أبي بكر بن حزم أنه سمع أباه كثيرا يقول: كان عمر بن الخطاب يقول: عجبا للعمة تورث ولا ترث. رواه مالك

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت محمد ابن ابوبکر ابن حزم سے ۱؎کہ انہوں نے اپنے والد کو بہت بار یہ کہتے سنا کہ حضرت عمر ابن خطاب فرماتے تھے تعجب ہے پھوپھی پر کہ وارث تو کردیتی ہے مگر خود وارث نہیں ہوتی ۲؎(مالک)

شرح حدیث

۱∞؎محمد تبع تابعین سے ہیں،ان کے والد ابوبکر ابن حزم تابعین سے ہیں۔(اشعۃ اللمعات)
۲
؎یعنی ازروئے قیاس یا تو پھوپھی بھی بھتیجہ کی وراثت عصبۃً پاتی یا بھتیجہ بھی پھوپھی کا وارث نہ ہوتا بلکہ ذی رحم ہوتا مگر حکم شرعی کے آگے سرخم ہے،بھتیجہ پھوپھی کا عصبہ ہے مگر پھوپھی بھتیجہ کی ذی رحم۔خیال رہے بھتیجہ تو عصبہ ہے مگر بھتیجی ذی رحم ہے اور یہاں وراثت سے مراد عصبۃً ہے ورنہ پھوپھی بھی بھتیجے کی ذی رحم وارث تو ہے۔اس حدیث سے ان لوگوں نے دلیل پکڑی ہے جو ذی رحم کو وارث نہیں مانتے،وہ حضرات اس جملہ کے معنی یہ کرتے ہیں کہ پھوپھی بالکل وارث نہیں ہوتی کیونکہ وہ ذی رحم ہے مگر وہ ہی مطلب قوی ہے جو ابھی عرض کیا گیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3068