Main Icon

باب: میراث کے حصّے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3058

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةُ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ بِابْنَتَيْهَا مِنْ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ هَاتَانِ ابْنَتَا سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ قُتِلَ أَبُوهُمَا مَعَكَ يَوْمَ أُحُدٍ شَهِيدًا وَإِنَّ عَمَّهُمَا أَخَذَ مَالَهُمَا وَلَمْ يَدَعْ لَهُمَا مَالًا وَلَا تُنْكَحَانِ إِلَّا وَلَهُمَا مَالٌ قَالَ: «يَقْضِي اللّٰهُ فِي ذٰلِكَ» فَنَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ فَبَعَثَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلٰى عَمِّهِمَا فَقَالَ: «أَعْطِ لِابْنَتَيْ سَعْدٍ الثُّلُثَيْنِ وَأَعْطِ أُمَّهُمَا الثُّمُنَ وَمَا بَقِيَ فَهُوَ لَكَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غريبٌ

وعن جابر قال: جاءت امرأة سعد بن الربيع بابنتيها من سعد بن الربيع إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله هاتان ابنتا سعد بن الربيع قتل أبوهما معك يوم أحد شهيدا وإن عمهما أخذ مالهما ولم يدع لهما مالا ولا تنكحان إلا ولهما مال قال: «يقضي الله في ذلك» فنزلت آية الميراث فبعث رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى عمهما فقال: «أعط لابنتي سعد الثلثين وأعط أمهما الثمن وما بقي فهو لك» . رواه أحمد والترمذي وأبو داود وابن ماجه وقال الترمذي: هذا حديث حسن غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ سعد ابن ربیع کی بیوی اپنی دو لڑکیاں جو سعد ابن ربیع سے تھیں رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں لائیں ۱؎بولیں یا رسولاللّٰهسعد ابن ربیع کی لڑکیاں ہیں جن کے باپ آپ کے ساتھ احد کے دن شہید ہوکر قتل کردیئے گئے اور انکے چچا نے ان کا مال لے لیا ۲؎کہ ان کے لیے کچھ مال نہ چھوڑا اور بغیر مال ان کا نکاح نہیں کیا جاسکتا ہے ۳؎حضور نے فرمایااللّٰهاس بارے میں فیصلہ فرمائے گا ۴؎تب میراث کی آیت نازل ہوئی ۵؎تب رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ان لڑکیوں کے چچا کو بلا بھیجا فرمایا سعد کی بیٹیوں کو دو تہائی دے دو اور ان بچیوں کی ماں کو آٹھواں حصہ جو باقی بچے وہ تمہارا ۶؎(احمد،ترمذی،ابوداؤد، ابن ماجہ)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن ہے غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎سعد ابن ربیع بروزن فعیل،رکے فتح سےبکے کسرہ سے،یہ سعد ابن ربیع انصاری ہیں،خزرجی ہیں،بدری ہیں،عقبہ اولٰی کی بیعت میں شریک رہے،حضرت عبدالرحمن بن عوف سے آپ کا عقدمواخات کرایا گیا،جنگ اُحد میں شہید ہوئے اور حضرت خارجہ ابن زید کے ساتھ ایک قبر میں داخل کئے گئے۔(اشعہ،مرقات)
۲
؎جیساکہ عرب میں دستور تھا کہ کسی کے فوت ہونے کے بعد اس کا بھائی ساری میراث پر قبضہ کرلیتا تھا اور اس کی یتیم بچیوں کو محروم کردیتا تھا۔غرضکہ مرحوم کی لڑکیاں میراث نہ پاتی تھیں یا بھائی میراث سمیٹتا تھا یا چچا،بچیاں محروم ہی رہتی تھیں۔
۳
؎کیونکہ بچیوں کی شادی میں جہیز وغیرہ دینا ہوتا ہے اور جہیز بغیر مال تیار نہیں ہوتا،غریب یتیم بچیوں سے کوئی نکاح کرنا پسند نہیں کرتا،مالدار لڑکیاں جلد ٹھکانے لگ جاتی ہیں جیساکہ آج بھی دیکھا جارہا ہے،یہ قدرتی چیز ہے حسن اور مال پر رجحان ہے۔
۴
؎ابھی تک میراث کی آیات نہ اتری تھیں اس لیے حضور انور نے خود کچھ فیصلہ نہ فرمایا۔خیال رہے کہ میراث کے احکام اکثر قرآن کریم میں وارد ہیں رب تعالٰی نے خود براہ راست میراث کے احکام جاری کئے تاکہ لوگ میراث میں خوف خدا سے کام لیں۔
۵
؎یعنی یہ آیت"یُوۡصِیۡکُمُ اللّٰہُ فِیۡۤ اَوْلَادِکُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الۡاُنۡثَیَیۡنِ"جس میں بیٹے بیٹیوں کے حصے مقرر فرمادیئے گئے۔
۶
؎خلاصہ یہ ہے کہ سعد کے مال کے کل چوبیس حصے کرو جن میں سے تین تو ان کی بیوی کے ہیں،سولہ ان کی لڑکیوں کے اور پانچ بقیہ تمہارے،کہ اولاد کے ہوتے بیوی کا آٹھواں حصہ ہوتا ہے،بیوی اور لڑکیاں ذی فرض ہیں اور چچا عصبہ۔مابقیسے معلوم ہوتا ہے کہ بھائی عصبہ ہے کہ اس کا حصہ مقرر نہیں،مرقات نے فرمایا کہ اسلام میں یہ پہلی میراث تقسیم ہوئی۔خیال رہے کہ رب تعالٰی نے لڑکیوں کے بارے میں فرمایا:"فَاِنۡ کُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیۡنِ"اگر لڑکیاں دو سے زیادہ ہوں تو دو تہائی کی وارث ہیں۔اس آیت کی بنا پر حضرت عبداللّٰهابن عباس نے فرمایا کہ دو لڑکیاں بھی ایک لڑکے کی طرح آدھا مال ہی پائیں گی،دو سے زیادہ ہوتو دو تہائی مگر باقی تمام صحابہ اور علمائے اسلام کا فرمان ہے کہ دو لڑکیاں بھی دو تہائی پائیں گی یعنی میراث میں دو کی تعداد جمع ہے اور یہ حدیث اس آیت کریمہ کی شرح ہے،قرآن کریم نے اتنی بڑی عبارت فرمائی،یہ نہ فرمادیا کہ اگر لڑکیاں دو ہوں تاکہ کوئی یہ وہم نہ کرے کہ دو لڑکیوں کو تہائی اور زیادہ کو تہائی اور زیادہ کو اس سے زیادہ۔غالبًا ابن عباس کو یہ حدیث پہنچی نہیں جب ایک بیٹی میت کے بیٹے کے ساتھ تہائی پاتی ہے تو بیٹی کے ساتھ بدرجہ اولٰی تہائی پائے گی۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3058