- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- تجارتوں کا بیان
- حدیث نمبر 3061
باب: میراث کے حصّے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3061
تجارتوں کا بیان - جلد 4
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ قَالَ: جَاءَتِ الْجَدَّةُ إِلٰى أَبِي بَكْرٍ تَسْأَلُهٗ مِيرَاثَهَا فَقَالَ لَهَا: مَا لَكِ فِي كِتَابِ اللّٰهِ شَيْءٌ وَمَا لَكِ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ فَارْجِعِي حَتّٰى أَسْأَلَ النَّاسَ فَسَأَلَ فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ: حَضَرْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهَا السُّدُسَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ هَل مَعَكَ غَيْرُكَ ؟ فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ مِثْلَ مَا قَالَ الْمُغِيْرَةُ، فَأَنْفَذَهٗ لَهَا أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ جَاءَتِ الْجَدَّةُ الْأُخْرٰى إِلٰى عُمَرَ تَسْأَلُهٗ مِيرَاثَهَا فَقَالَ: هُوَ ذٰلِكَ السُّدُسُ فَإِنِ اجْتَمَعْتُمَا فَهُوَ بَيْنَكُمَا وَأَيَّتُكُمَا خَلَتْ بِهٖ فَهُوَ لَهَا. رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ وَابْنُ مَاجَه
وعن قبيصة بن ذؤيب قال: جاءت الجدة إلى أبي بكر تسأله ميراثها فقال لها: ما لك في كتاب الله شيء وما لك في سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم شيء فارجعي حتى أسأل الناس فسأل فقال المغيرة بن شعبة: حضرت رسول الله صلى الله عليه وسلم أعطاها السدس فقال أبو بكر هل معك غيرك ؟ فقال محمد بن مسلمة مثل ما قال المغيرة، فأنفذه لها أبو بكر ثم جاءت الجدة الأخرى إلى عمر تسأله ميراثها فقال: هو ذلك السدس فإن اجتمعتما فهو بينكما وأيتكما خلت به فهو لها. رواه مالك وأحمد والترمذي وأبو داود والدارمي وابن ماجه
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت قبیصہ ابن ذویب سے ۱؎فرماتے ہیں حضرت ابوبکر کی خدمت میں نانی حاضر ہوئیں آپ سے اپنی میراث مانگتی تھیں ۲؎تو فرمایا نہاللّٰهکی کتاب میں تیرے لیے کچھ ہے اور نہ سنت رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم میں تجھے کچھ ملے گا ۳؎ابھی تو لوٹ جا حتی کہ میں لوگوں سے پوچھ گچھ کرلوں۴؎چنانچہ آپ نے پوچھا تو حضرت مغیرہ ابن شعبہ نے عرض کیا میں رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں حاضر تھا آپ نے دادی کو چھٹا حصہ دیا تھا ابوبکر صدیق نے فرمایا کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے ۵؎تب محمد ابن مسلمہ نے ویسا ہی کہا جو مغیرہ نے کہا تھا چنانچہ جناب صدیق نے دادی کے لیے چھٹا حصہ جاری کردیا ۶؎پھر دوسری جانب کی دادی حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوئیں ۷؎اپنی میراث آپ سے مانگتی تھیں تو فرمایا دادی کی میراث یہ ہی چھٹا حصہ ہے ۸؎اگر تم دونوں(دادی،نانی)جمع ہوجاؤ تو وہ تم دونوں میں ہوگا اور تم میں سے جو اکیلی ہو تو وہ اس کا ہوگا۹؎(مالک،احمد، ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)
شرح حدیث
۱∞؎قبیصہبروزنکریمہہے،اورذویبذال کے پیش واؤ کے کسرہ سے،آپ کو ابن عبدالبر نے تو صحابی مانا ہے اور ۱ ھ∞ میں پیدائش ثابت کی ہے،دوسرے محدثین انہیں تابعی مانتے ہیں،آپ فقہاء مدینہ سے ہیں۔چنانچہ سعید ابن مسیب،عروہ ابن زبیر،عبدالملک ابن مروان،قبیصہ ابن ذویب یہ چار حضرات فقہاء مدینہ سے مانے جاتے تھے، ۸۶ھ∞ میں آپ کی وفات ہوئی۔(اشعہ،مرقات،اکمال)
۲؎اس نے عرض کیا کہ میرا ولد بنت یعنی نواسا فوت ہوگیا ہے،میرا حصہ میراث کا مجھے دلوایا جائے،یہاںجدۃبمعنی نانی ہے جیساکہ دوسری روایات سے ثابت ہے۔(مرقات)
۳؎یعنی جہاں تک میرا علم ہے۔حدیث شریف میں بھی دادی نانی کا حصہ کچھ نہیں،یہاں نفی اپنے علم کے اعتبار سے ہے۔
۴؎اس زمانہ میں کسی کو مسئلہ بتانا آسان نہ تھا،ایک مسئلہ کے لیے مہینوں حدیث تلاش کرنا پڑتی ہے۔اللّٰهتعالٰی فقہاء کرام کا بھلا کرے کہ وہ حضرات ہمارے لیے علم فقہ کو پانی بنا گئے کہ کوئی مسئلہ ہو کتاب،باب،فصل نکالو اور بتادو،اسی لیے حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا تھا کہ میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہوں گے،جتنی خدمت علماء اسلام نے کی اتنی خدمت کسی دین کے عالموں نے اپنے دین کی نہ کی۔
۵؎گواہ مانگنا احتیاطًا تھا تاکہ لوگ حدیث بیان کرنے پر دلیر نہ ہو جائیں،نیز اس حدیث سے حقوق العباد متعلق تھے،اس وجوہ سے یہ احتیاط برتی ورنہ صحابہ سارے عادل ہیں ہر ایک کی روایت معتبر ہے۔
۶؎یعنی ورثاء کو حکم دے دیا کہ دادی کو چھٹا حصہ دیں،چونکہ حکم فرمانے والے خود نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم تھے اس پر عمل کرانے والے ابوبکر صدیق اس لیے یہ عبارت استعمال ہوئی،یوں ہی بادشادہ اسلام حضور انور کے احکام جاری کرنے والا ہے،حاکماللّٰهرسول ہیں۔
۷؎یا تو پہلے نانی آئی تھی اب دادی آئی یا اس کے برعکس،اول معنی زیادہ قوی ہیں جیساکہ بعض روایات میں ہے کہ پھر میت کے باپ کی ماں آئی اور اس نے حضرت عمر کی خدمت میں عرض کیا کہ بمقابلہ نانی کے میرا حق میراث میں زیادہ ہے کہ اگر میں مرجاتی تو میرا یہ پوتا وارث ہوتا،اگر نانی مرتی تو اس کا یہ نواسہ وارث نہ ہوتا۔جب وہ مرحوم میرا وارث ہوتا ہے نہ کہ نانی کا تو چاہیے کہ میں ہی اس کی وارث ہوں نہ کہ نانی لہذا مجھے میراث واپس دلوائی جائے۔ (مرقات)
۸؎یعنی اس چھٹے حصے میں تو بھی شریک ہے کہ آدھا تیرا آدھا نانی کا۔
۹؎یہ جملہ گزشتہ مضمون کا بیان ہے،جمہور صحابہ اور قریبًا تمام فقہاء و علماء کا یہ ہی مذہب ہے کہ اگر نانی یا دادی اکیلی ہو تو پورا چھٹا حصہ اسے ملے گا اور اگر دونوں ہوں تو یہ ہی چھٹا حصہ دونوں میں آدھا آدھا مگر حضرت عبداللّٰهابن عباس فرماتے ہیں کہ ماں کے نہ ہونے پر نانی ماں کی جگہ ہوگی کہ اگر میت کے اولاد بھائی بہن نہ ہوں تو نانی کو تہائی اور اگر ہوں تو پورا چھٹا حصہ،شاید یہ حدیث انہیں پہنچی نہیں۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3061