- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- نماز کا بیان
- حدیث نمبر 1188
باب : رات کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1188
نماز کا بیان - جلد 2
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِيمَا بَين أَن يفرغ من صَلَاة الْعشَاء إِلَى الفَجْرِ إِحْدٰى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُسَلِّمُ مِنْ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ فَيَسْجُدُ السَّجْدَةَ مِنْ ذٰلِكَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ خَمْسِينَ آيَةً قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهٗ فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَتَبَيَّنَ لَهُ الْفَجْرُ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلیٰ شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتّٰى يَأْتِيَهِ الْمُؤَذِّنُ لِلْإِقَامَةِ فَيَخْرُجُ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
عن عائشة رضي الله عنها قالت: كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي فيما بين أن يفرغ من صلاة العشاء إلى الفجر إحدى عشرة ركعة يسلم من كل ركعتين ويوتر بواحدة فيسجد السجدة من ذلك قدر ما يقرأ أحدكم خمسين آية قبل أن يرفع رأسه فإذا سكت المؤذن من صلاة الفجر وتبين له الفجر قام فركع ركعتين خفيفتين ثم اضطجع علی شقه الأيمن حتى يأتيه المؤذن للإقامة فيخرج(متفق عليه)
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم عشاء کی نماز سے فارغ ہونے سے فجر تک گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے ۱؎کہ ہر دو رکعتوں میں سلام پھیرتے تھے ۲؎اور ایک رکعت سے وتر بناتے تھے ۳؎ اس کا ایک سجدہ اس قدر دراز کرتے کہ تم میں سے کوئی پچاس آیتیں پڑھ لے اپنا سر اٹھانے سے پہلے پھر جب نماز فجر کا مؤذن خاموش ہوتا اور صبح چمک جاتی اور فجر ظاہر ہوجاتی تو پھر دو ہلکی رکعتیں پڑھتے ۴؎ پھر اپنی داہنی کروٹ پر لیٹ جاتے حتی کہ آپ کے پاس تکبیر کی اجازت لینے مؤذن آتا تو تشریف لے جاتے ۵؎ (مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎اس طرح کی آٹھ رکعت تہجد پڑھتے تھے تین رکعت و تر۔خیال رہے کہ بغیر عشاء پڑھے تہجد نہیں ہوسکتی۔
۲؎اس آخری جملہ سے بہت لوگوں نے ٹھوکر کھائی ہے،بعض نے اس کے یہ معنی کیئے دس رکعتیں تہجد پڑھی ہر دو رکعت پر سلام اور ایک رکعت وتر پڑھی مگر اس بناء پر یہ روایت ان تمام روایات کے خلاف ہوگی جن میں تین رکعت وتر کی تصریح ہے یا جن میں یہ ہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے وتر کی رکعت اول میں سورۂاعلیٰپڑھی دوسری میں "قُلْ یٰۤاَیُّہَا الْکٰفِرُوۡنَ"،تیسری میں "قُلْ ھُوَاللّٰہُ اَحَدٌ"۔بعض لوگوں نے یہ معنے کیئے کہ تہجد آٹھ رکعتیں پڑھیں اور وتر تین رکعتیں اگر اس طرح کہ وتر کی دو رکعت ایک سلام سے اور ایک رکعت ایک سلام سے مگر یہ معنی ان احادیث کے خلاف ہیں جن میں وارد ہوا کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نےایک سلام سے تین رکعت و تر پڑھے یا حضور صلی الله علیہ وسلم نے ناقص نماز ایک رکعت والی نماز سے منع فرمایا،ارشاد فرمایاکہ مغرب دن کے وتر ہیں اور وتررات کے وتر،لہذا اس حدیث کے معنی وہی درست ہیں جو احناف نے کیئے وہ یہ کہ دو دو رکعت پر سلا م تو تہجد میں پھیرا اور وتر اس طرح پڑھے کہ دو رکعت کے ساتھ ایک رکعت اور ملالی جس سے یہ ساری نماز وتر یعنی طاق ہوگئی یعنیبِرَکْعَۃٍکیبتعدیہ کی نہیں بلکہ استعانت کی ہے اب یہ کسی حدیث سے متعارض نہیں۔
۳؎یعنی نماز تہجد کا ہر سجدہ یا وتر کا ہر سجدہ یا تہجد سے فارغ ہو کر شکر کا ایک سجدہ اتنا دراز ادا کرتے کہ تم میں سے کوئی آدمی اتنی دیر میں پچاس آیات تلاوت کرے گا۔اس سے معلوم ہوا کہ تہجد کے بعد اس کا شکریہ ادا کرنا کہ رب نے اس نماز کی توفیق بخشی بہتر ہے۔
۴؎جب خوب روشنی ہوجاتی تو سنت فجر ادا فرماتے۔اس سے معلوم ہوا کہ فجر اجیالے میں پڑھنا سنت ہے اس طرح کہ سنتیں بھی بلکہ اذان فجر بھی اجیالے میں ہو ورنہ ام المؤمنینتَبَیَّنَنہ فرماتیں۔
۵؎یعنی حضرت بلال جماعت کے وقت در دولت پر حاضر ہو کر عرض کرتے کہ کیا تکبیر کہوں آپ اجازت دیتے تب وہ صف میں پہنچ کر تکبیر شروع کرتے جب "حی علی الفلاح" پر پہنچتے تو آپ دروازہ شریف سے مسجد میں داخل ہوتے۔اس حدیث سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ سنت فجر سے بعد داہنی کروٹ پر کچھ دیر لیٹ جانا سنت ہے بشرطیکہ نیند نہ آجائے ورنہ وضو جاتا رہے گا۔دوسرے یہ کہ سلطان اسلام عالم دین کو اذان کے علاوہ بھی نماز کی اطلاع دینا جائز ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1188