Main Icon

باب : رات کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1188

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِيمَا بَين أَن يفرغ من صَلَاة الْعشَاء إِلَى الفَجْرِ إِحْدٰى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُسَلِّمُ مِنْ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ فَيَسْجُدُ السَّجْدَةَ مِنْ ذٰلِكَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ خَمْسِينَ آيَةً قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهٗ فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَتَبَيَّنَ لَهُ الْفَجْرُ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلیٰ شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتّٰى يَأْتِيَهِ الْمُؤَذِّنُ لِلْإِقَامَةِ فَيَخْرُجُ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن عائشة رضي الله عنها قالت: كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي فيما بين أن يفرغ من صلاة العشاء إلى الفجر إحدى عشرة ركعة يسلم من كل ركعتين ويوتر بواحدة فيسجد السجدة من ذلك قدر ما يقرأ أحدكم خمسين آية قبل أن يرفع رأسه فإذا سكت المؤذن من صلاة الفجر وتبين له الفجر قام فركع ركعتين خفيفتين ثم اضطجع علی شقه الأيمن حتى يأتيه المؤذن للإقامة فيخرج(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم عشاء کی نماز سے فارغ ہونے سے فجر تک گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے ۱؎کہ ہر دو رکعتوں میں سلام پھیرتے تھے ۲؎اور ایک رکعت سے وتر بناتے تھے ۳؎ اس کا ایک سجدہ اس قدر دراز کرتے کہ تم میں سے کوئی پچاس آیتیں پڑھ لے اپنا سر اٹھانے سے پہلے پھر جب نماز فجر کا مؤذن خاموش ہوتا اور صبح چمک جاتی اور فجر ظاہر ہوجاتی تو پھر دو ہلکی رکعتیں پڑھتے ۴؎ پھر اپنی داہنی کروٹ پر لیٹ جاتے حتی کہ آپ کے پاس تکبیر کی اجازت لینے مؤذن آتا تو تشریف لے جاتے ۵؎ (مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کی آٹھ رکعت تہجد پڑھتے تھے تین رکعت و تر۔خیال رہے کہ بغیر عشاء پڑھے تہجد نہیں ہوسکتی۔
۲
؎اس آخری جملہ سے بہت لوگوں نے ٹھوکر کھائی ہے،بعض نے اس کے یہ معنی کیئے دس رکعتیں تہجد پڑھی ہر دو رکعت پر سلام اور ایک رکعت وتر پڑھی مگر اس بناء پر یہ روایت ان تمام روایات کے خلاف ہوگی جن میں تین رکعت وتر کی تصریح ہے یا جن میں یہ ہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے وتر کی رکعت اول میں سورۂاعلیٰپڑھی دوسری میں "قُلْ یٰۤاَیُّہَا الْکٰفِرُوۡنَ"،تیسری میں "قُلْ ھُوَاللّٰہُ اَحَدٌ"۔بعض لوگوں نے یہ معنے کیئے کہ تہجد آٹھ رکعتیں پڑھیں اور وتر تین رکعتیں اگر اس طرح کہ وتر کی دو رکعت ایک سلام سے اور ایک رکعت ایک سلام سے مگر یہ معنی ان احادیث کے خلاف ہیں جن میں وارد ہوا کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نےایک سلام سے تین رکعت و تر پڑھے یا حضور صلی الله علیہ وسلم نے ناقص نماز ایک رکعت والی نماز سے منع فرمایا،ارشاد فرمایاکہ مغرب دن کے وتر ہیں اور وتررات کے وتر،لہذا اس حدیث کے معنی وہی درست ہیں جو احناف نے کیئے وہ یہ کہ دو دو رکعت پر سلا م تو تہجد میں پھیرا اور وتر اس طرح پڑھے کہ دو رکعت کے ساتھ ایک رکعت اور ملالی جس سے یہ ساری نماز وتر یعنی طاق ہوگئی یعنیبِرَکْعَۃٍکیبتعدیہ کی نہیں بلکہ استعانت کی ہے اب یہ کسی حدیث سے متعارض نہیں۔
۳
؎یعنی نماز تہجد کا ہر سجدہ یا وتر کا ہر سجدہ یا تہجد سے فارغ ہو کر شکر کا ایک سجدہ اتنا دراز ادا کرتے کہ تم میں سے کوئی آدمی اتنی دیر میں پچاس آیات تلاوت کرے گا۔اس سے معلوم ہوا کہ تہجد کے بعد اس کا شکریہ ادا کرنا کہ رب نے اس نماز کی توفیق بخشی بہتر ہے۔
۴
؎جب خوب روشنی ہوجاتی تو سنت فجر ادا فرماتے۔اس سے معلوم ہوا کہ فجر اجیالے میں پڑھنا سنت ہے اس طرح کہ سنتیں بھی بلکہ اذان فجر بھی اجیالے میں ہو ورنہ ام المؤمنینتَبَیَّنَنہ فرماتیں۔
۵
؎یعنی حضرت بلال جماعت کے وقت در دولت پر حاضر ہو کر عرض کرتے کہ کیا تکبیر کہوں آپ اجازت دیتے تب وہ صف میں پہنچ کر تکبیر شروع کرتے جب "حی علی الفلاح" پر پہنچتے تو آپ دروازہ شریف سے مسجد میں داخل ہوتے۔اس حدیث سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ سنت فجر سے بعد داہنی کروٹ پر کچھ دیر لیٹ جانا سنت ہے بشرطیکہ نیند نہ آجائے ورنہ وضو جاتا رہے گا۔دوسرے یہ کہ سلطان اسلام عالم دین کو اذان کے علاوہ بھی نماز کی اطلاع دینا جائز ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1188