Main Icon

باب : رات کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1200

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ حُذَيْفَةَ: أَنَّهٗ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ وَكَانَ يَقُولُ: «اَللهُ أَكْبَرْ» ثَلَاثًا «ذُو الْمَلَكُوتِ وَالْجَبَرُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ» ثُمَّ اسْتَفْتَحَ فَقَرَأَ الْبَقَرَةَ ثُمَّ رَكَعَ فَكَانَ رُكُوعُهٗ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهٖ فَكَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهٖ: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ» ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهٗ مِنَ الرُّكُوعِ فَكَانَ قِيَامُهٗ نَحْوًا مِنْ رُكُوعِهٖ يَقُولُ: «لِرَبِّيَ الْحَمْدُ» ثُمَّ سَجَدَ فَكَانَ سُجُودُهٗ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهٖ فَكَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِهٖ: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَ عَلیٰ » ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهٗ مِنَ السُّجُودِ وَكَانَ يَقْعُدُ فِيمَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ نَحْوًا مِنْ سُجُودِهٖ وَكَانَ يَقُولُ: «رَبِّ اغْفِرْ لِي رَبِّ اغْفِرْ لِي» فَصَلّٰى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ قَرَأَ فِيهِنَّ (الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ وَالنِّسَاءَ وَالْمَائِدَةَ أَوِ الْأَنْعَامَ) شَكَّ شُعْبَةُ)رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

عن حذيفة: أنه رأى النبي صلى الله عليه وسلم يصلي من الليل وكان يقول: «الله أكبر» ثلاثا «ذو الملكوت والجبروت والكبرياء والعظمة» ثم استفتح فقرأ البقرة ثم ركع فكان ركوعه نحوا من قيامه فكان يقول في ركوعه: «سبحان ربي العظيم» ثم رفع رأسه من الركوع فكان قيامه نحوا من ركوعه يقول: «لربي الحمد» ثم سجد فكان سجوده نحوا من قيامه فكان يقول في سجوده: «سبحان ربي الأ علی » ثم رفع رأسه من السجود وكان يقعد فيما بين السجدتين نحوا من سجوده وكان يقول: «رب اغفر لي رب اغفر لي» فصلى أربع ركعات قرأ فيهن (البقرة وآل عمران والنساء والمائدة أو الأنعام) شك شعبة)رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت حذیفہ سے کہ انہوں نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کو رات میں نماز پڑھتے دیکھا آپ تین بار فرماتے تھے الله اکبر ملکوت جبروت کبریائی و عظمت والا ۱؎پھر نماز شروع کی ۲؎سورۂ بقرہ پڑھی، پھر رکوع کیا تو آپ کا رکوع آپ کے قیام کی مثل تھا ۳؎اپنے رکوع میںسبحان ربی العظیمکہتے رہے پھر رکوع سے سر اٹھایا آپ کا قومہ رکوع کی مثل تھا فرماتے تھےلربی الحمدپھر سجدہ کیا تو آپ کا سجدہ قومہ کی مثل تھا ۴؎اپنے سجدہ میں فرماتے تھےسُبْحَانَ ربی الاعلیپھر سجدے سے سر اٹھایا اور آپ دو سجدوں کے بیچ سجدے کی مثل ہی بیٹھتے تھے اور کہتے تھے مولیٰ مجھے بخش دے ۵؎چار رکعتیں پڑھیں جن میں بقرہ، آل عمران، نساء مائدہ یا انعام پڑھیں، شک شعبہ کو ہے ۶؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎ملکوت مُلک کا مبالغہ ہے اور جبروت جبر کا بمعنی غلبہ۔اصطلاح میں ظاہری ملک کو ملک کہتے ہیں،باطنی کو ملکوت یعنی باطنی ملک اور پورے غلبہ والا۔علماء فرماتے ہیں کہ ملکوت،جبروت،کبریا صرف رب تعالٰی کے لیئے استعمال ہوسکتے ہیں کسی بندے کے لیئے ان کا استعمال جائز نہیں جیسے رحمان وغیرہ۔(ا زمرقاۃ)
۲
؎یعنی تکبیر تحریمہ سے پہلے وہ کلمات کہے پھر تکبیر تحریمہ کہی یا تکبیر کے بعد یہ کہے پھر ثنا شروع کی پہلا احتمال قوی ہے۔
۳
؎ظاہر یہ ہے کہ بقرہ سے مراد پوری سورۂ بقرہ ہے یعنی ایک رکعت میں پوری سورۂ بقرہ پڑھی،پھر رکوع بھی اس قدر دراز فرمایا۔اس سے معلوم ہوا کہ شبینہ کرنا جائز ہے کیونکہ شبینہ میں ایک رکعت میں ڈیڑھ پارہ آتا ہے اور حضور صلی الله علیہ وسلم نے ایک رکعت میں ڈھائی پارہ پڑھے ہیں۔
۴
؎اس سے معلوم ہوا کہ دراز قیام زیادتی سجود سے افضل ہے،یہ ہی امام اعظم کا فرمان ہے۔یہ حدیث ا س حدیث کی تفسیر ہے جس میں ارشاد ہوا کہ جو تنہا نماز پڑھے وہ جتنی چاہے دراز کرے۔
۵
؎یعنی دو سجدوں کے درمیان یہ کلمہ بار بار اس قدر پڑھا کہ آپ کا یہ جلسہ سجدے کے قریب دراز ہوگیا،یہ دعا تعلیم امت کے لیئے ہے۔
۶
؎یعنی شعبہ راوی کو اس میں شک ہوا کہ چوتھی رکعت میں حضور صلی الله علیہ وسلم نے سورۂ مائدہ پڑھی یا انعام،اگلی رکعتوں میں تردد نہیں کہ پہلی میں بقرہ دوسری میں آل عمران تیسری میں نساء پڑھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1200