Main Icon

باب : رات کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1204

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ لَيْلَةً فَإِذَا هُوَ بِأَبِي بَكْرٍ يُصَلِّي يَخْفِضُ مِنْ صَوْتِهٖ وَمَرَّ بِعُمَرَ وَهُوَ يُصَلِّي رَافِعًا صَوْتَهٗ قَالَ: فَلَمَّا اجْتَمَعَا عِنْدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ مَرَرْتُ بِكَ وَأَنْتَ تُصَلِّي تَخْفِضُ صَوْتَكَ» قَالَ: قَدْ أَسْمَعْتُ مَنْ نَاجَيْتُ يَا رَسُولَ اللهِ وَقَالَ لِعُمَرَ: «مَرَرْتُ بِكَ وَأَنْتَ تُصَلِّي رَافِعًا صَوْتَكَ» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أُوقِظُ الْوَسْنَانَ وَأَطْرُدُ الشَّيْطَانَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «يَا أَبَا بَكْرٍ ارْفَعْ مِنْ صَوْتِكَ شَيْئًا» وَقَالَ لِعُمَرَ: «اخْفِضْ مِنْ صَوْتِكَ شَيْئًا».رَوَاهُ أَبُودَاوُد َوَرَوَى التِّرْمِذِيُّ نَحوَهٗ

وعن أبي قتادة قال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج ليلة فإذا هو بأبي بكر يصلي يخفض من صوته ومر بعمر وهو يصلي رافعا صوته قال: فلما اجتمعا عند النبي صلى الله عليه وسلم قال: «يا أبا بكر مررت بك وأنت تصلي تخفض صوتك» قال: قد أسمعت من ناجيت يا رسول الله وقال لعمر: «مررت بك وأنت تصلي رافعا صوتك» فقال: يا رسول الله أوقظ الوسنان وأطرد الشيطان فقال النبي صلى الله عليه وسلم : «يا أبا بكر ارفع من صوتك شيئا» وقال لعمر: «اخفض من صوتك شيئا».رواه أبوداود وروى الترمذي نحوه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو قتادہ سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ایک رات تشریف لے گئے ۱؎ابوبکر صدیق تک پہنچے وہ نماز پڑھ رہے تھے بہت پست آواز سے اور حضرت عمر پر گزرے تو وہ نماز پڑھ رہے تھے بلند آواز سے راوی نے فرمایا کہ جب یہ دونوں حضور نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے پاس جمع ہوئے تو فرمایا ۲؎اے ابوبکر ہم تم پر گزرے تو آواز پست کیے نماز پڑھ رہے تھے آپ نے عرض کیا یارسول الله جس سے مناجات کررہا تھا اسے سنالیا ۳؎حضرت عمر سے فرمایا کہ ہم تم پر گزرے تم بلند آواز سے نماز پڑھ رہے تھے عرض کیا یارسول الله صلی الله علیہ وسلم سوتوں کو جگاتا تھا شیطان کو بھگاتا تھا ۴؎فرمایا حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے اے ابوبکر تم اپنی آواز کچھ بلند کرو اور حضرت عمر سے فرمایا کہ تم اپنی آواز کچھ پست کرو ۵؎(ابوداؤد)اور ترمذی نے اس کی مثل روایت کی۔

شرح حدیث

۱∞؎اپنے صحابہ کے شب کے حالات ملاحظہ فرمانے کے لیئے۔معلوم ہوا کہ سلطان کا رات میں گشت لگانا تاکہ رعایا کے حالات معلوم کرے سنت ہے۔اسی طرح استاد و شیخ کا اپنے شاگردوں مریدوں کے حالات کی تفتیش کرنا مسنون ہے ان کا ماخذ یہ حدیث ہے اور حق یہ ہے کہ حضور انور صلی الله علیہ وسلم کی یہ گشت اب بھی جاری ہے اپنی امت کے حالات ملاحظہ فرمانے کے لیئے گشت فرماتے ہیں۔صوفیا نے بعض دفعہ مشاہدہ کیا ہے اور اس کا ذکر ہم نے اپنی کتاب "جاءالحق"حصہ اول میں کیا ہے۔
۲
؎یعنی ابوبکر صدیق تہجد میں قرأت نہایت آہستہ کررہے تھے اور حضرت فاروق خوب اونچی۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ صدیق پر طریقت کا غلبہ ہے اور حضرت فاروق اعظم پر شریعت کاغلبہ۔
۳
؎یعنی رب تعالٰی کو سنانا مقصود تھا وہ تو آہستہ آواز بھی سنتا ہے فرماتا ہے:"فَاِنَّہٗ یَعْلَمُ السِّرَّ وَاَخْفٰی" پھر جہر کی کیا حاجت۔
۴
؎یعنی میں تہجد میں رب تعالٰی کو سنانے کے علاوہ دو کام اور بھی کررہا تھا سوتوں کو جگانا کہ میری آواز سن کر جاگ جاویں اور وہ بھی تہجد پڑھ لیں اور شیطان کو بھگانا کہ جہر کی برکت سے شیطان مجھے وسوسہ نہ دے سکے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان اذان کی طرح قرآن کریم کی آواز سے بھی بھاگتا ہے۔یہ حدیث ذکر بالجہر کرنے والے صوفیاء کی بھی دلیل ہے اور ذکر خفی والوں کی بھی دونوں الله کے پیارے ہیں نیت سب کی بخیر ہے۔
۵
؎یہ جملہ اس کی شرح ہے "خَیْرُ الْاُمُوْرِ اَوْسَطُھَا" یعنی نہ اتنی بلند قرأت کرو کہ دوسروں کو تکلیف ہو نہ اتنی آہستہ کہ بالکل پتہ ہی نہ لگے درمیانی روش دونوں صاحب اختیار فرماؤ،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَابْتَغِ بَیۡنَ ذٰلِکَ سَبِیۡلًا"اے صدیق خالق کو سنانے کے ساتھ مخلوق کو اپنی قرأت سے فائدہ پہنچاؤ اور اے عمر مخلوق پر کچھ نرمی کرتے ہوئے اپنے نفس پر بھی زیادہ مشقت نہ ڈالوسُبْحَانَ اللّٰهِ !کیسی پیاری تعلیم ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1204