Main Icon

باب : رات کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1199

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَقَدْ عَرَفْتُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرِنُ بَيْنَهُنَّ فَذَكَرَ عِشْرِينَ سُورَةً مِنْ أَوَّلِ الْمُفَصَّلِ عَلیٰ تَأْلِيفِ ابْنِ مَسْعُودٍ سُورَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ آخِرُهُنَّ (حٰمٓ الدُّخَانُ)وَ (عَمَّ يَتَسَآءَلُوْنَ) (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عبد الله بن مسعود قال: لقد عرفت النظائر التي كان النبي صلى الله عليه وسلم يقرن بينهن فذكر عشرين سورة من أول المفصل علی تأليف ابن مسعود سورتين في ركعة آخرهن (حم الدخان)و (عم يتساءلون) (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد الله ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ میں وہ یکساں سورتیں جانتا ہوں جنہیں آپ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ملا کر پڑھتے تھے ۱؎تو آپ نے ابن مسعود کی ترتیب پر اول مفصل بیس سورتیں بیان کیں ہر رکعت میں دو دو سورتیں جن میں آخریحٰمٓ،الدخاناورعم یتساءلونہیں۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎ یعنی حضور صلی الله علیہ وسلم تہجد کی ایک ایک رکعت میں دو دو سورتیں جو مقدا رمیں تقریبًا یکساں ہوتی تھیں پڑھا کرتے تھے دو رکعتتحیۃ الوضوآٹھ رکعت تہجد اور ہر رکعت میں دو سورتیں اس طرح دس رکعتوں میں بیس سورتیں ہوگئیں۔
۲
؎ترتیب ان کی اس طرح تھی کہ ایک رکعت میں سورۂرَحْمَاناوراَلنَّجْمدوسری میںاِقْتَرَبَتْاوراَلْحَاقَّہتیسری میںطُوْراورذَارِیَاتْچوتھی میںاِذَاوَقَعَتِاورنُوْنپانچویں میںسَأَلَ سَائِلٌاورنَازِعَاتْچھٹی میںوَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَاورعَبَسَساتویں میںمُدَّثِّرْاورمُزَمِّلْآٹھویں میںھَلْ اَتٰیاورلَااُقْسِمُنویں میںعَمَّ یَتَسَاءَلُوْنَاورمُرْسَلَاتْ،دسویں میںدُخَانْاوراِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْابن مسعود کی یہی ترتیب تھی۔(مرقاۃ)خیال رہے کہ حضرت ابن مسعود اور ابی ابن کعب وغیرہ صحابہ نے قرآن کی سورتیں نزول کے اعتبار سے ترتیب دی تھیں انہیں یہ پتہ نہ تھا کہ آیات قرآنی کی طرح ترتیب بھی آسمانی ہی ہے جو حضور حکمًا خود دے گئے ہیں اس لیئے وہ ترتیبیں ختم ہوگئیں اور موجودہ ترتیب جس پر سارے صحابہ اور امت کا اجماع ہوا ہے جو کہ خود حضور صلی الله علیہ وسلم نے دی تھی تاقیامت باقی رہی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1199