Main Icon

باب : رات کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1201

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :«مَنْ قَامَ بِعَشْرِ آيَاتٍ لَمْ يُكْتَبْ مِنَ الْغَافِلِينَ وَمَنْ قَامَ بِمِائَةِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْقَانِتِينَ وَمَنْ قَامَ بِأَلْفِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْمُقَنْطِرِيْنَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

وعن عبد الله بن عمرو بن العاص قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم :«من قام بعشر آيات لم يكتب من الغافلين ومن قام بمائة آية كتب من القانتين ومن قام بألف آية كتب من المقنطرين» . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد الله ابن عمرو بن عاص سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو رات کھڑے ہو کر دس آیتیں پڑھے ۱؎تو وہ غافلوں سے نہ لکھا جائے گا اور جو کھڑے ہو کر سو آیتیں پڑھے وہ مطیعون میں سے لکھا جائے گا ۲؎اور جو کھڑے ہو کر ہزار آیتیں پڑھے تو وہ بہت ثواب والوں میں لکھا جائے گا ۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جو تہجد کی ایک یا دو رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد دس آیات تلاوت کرے تو اس کا یہ فائدہ ہوگا کہ اس کا نام غافلوں کے رجسٹر میں نہ آئے گااِنْ شَاءَاللّٰهُذاکرین میں ہوگا۔
۲
؎یعنی جو تہجد کی ایک رکعت یا دو رکعت میں یا پوری تہجد میں سو آیات پڑھ لیا کرے تو اس کا شمار ان نیک بختوں کے زمرے میں ہوگا جنہوں نے ساری زندگی اطاعت الہی میں گزاری ی الله تعالٰی اس عبادت کی برکت سے اسے اپنی فرمانبرداری و اطاعت گزاری کی توفیق دے گا،بعض شارحین نے فرمایا کہ اس میں تہجد کی بھی قید نہیں جو روزانہ نماز وں میں یا خارج نماز سو آیات تلاوت کرلیا کرے اس کا یہ درجہ ہے مگر پہلے معنی زیادہ قوی ہیں ا س لیئے مولف یہ حدیث تہجد کے باب میں لائے۔
۳
؎مقنطرینقنطارسے بنا،بمعنی بہت مال۔بعض نے فرمایا کہ بارہ ہزار اشرفیاں قنطار ہیں،بعض نے فرمایا کہ بیل کی کھال بھر سونا بعض کے نزدیک ستر ہزار دینار۔حق یہ ہے کہ اس کی حد مقرر نہیں یہاں بے شمار ثواب والے مراد ہیں،حضرت معاذ ابن جبل فرماتے ہیں کہ قنطار بارہ سو اوقیہ ہیں۔ جن کا ایک اوقیہ زمین و آسمان سے بڑھ کر ہے۔(ابن حبان و مرقاۃ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1201