Main Icon

باب : رات کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1209

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قُلْتُ وَأَنَا فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَاللهِ لَأَرْقَبَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلصَّلَاةِ حَتّٰى أَرٰى فِعْلَهٗ فَلَمَّا صَلّٰى صَلَاةَ الْعِشَاءِ وَهِيَ الْعَتَمَةُ اضْطَجَعَ هَوِيًّا مِنَ اللَّيْلِ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَنَظَرَ فِي الْأُفُقِ فَقَالَ: (رَبنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلاً)حَتّٰى بَلَغَ إِلٰى (إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ)ثُمَّ أَهْوٰى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلٰى فِرَاشِهٖ فَاسْتَلَّ مِنْهُ سِوَاكًا ثُمَّ أَفْرَغَ فِي قَدَحٍ مِنْ إِدَاوَةٍ عِنْدَهٗ مَاءً فَاسْتَنَّ ثُمَّ قَامَ فَصَلّٰى حَتّٰى قُلْتُ: قَدْ صَلّٰى قَدْرَ مَا نَامَ ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتّٰى قُلْتُ قَدْ نَامَ قَدْرَ مَا صَلّٰى ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَفَعَلَ كَمَا فَعَلَ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ فَفَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَبْلَ الْفَجْرِ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ

وعن حميد بن عبد الرحمن بن عوف قال: أن رجلا من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم قال: قلت وأنا في سفر مع رسول الله صلى الله عليه وسلم : والله لأرقبن رسول الله صلى الله عليه وسلم للصلاة حتى أرى فعله فلما صلى صلاة العشاء وهي العتمة اضطجع هويا من الليل ثم استيقظ فنظر في الأفق فقال: (ربنا ما خلقت هذا باطلا)حتى بلغ إلى (إنك لا تخلف الميعاد)ثم أهوى رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى فراشه فاستل منه سواكا ثم أفرغ في قدح من إداوة عنده ماء فاستن ثم قام فصلى حتى قلت: قد صلى قدر ما نام ثم اضطجع حتى قلت قد نام قدر ما صلى ثم استيقظ ففعل كما فعل أول مرة وقال مثل ما قال ففعل رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاث مرات قبل الفجر. رواه النسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت حمید ابن عبدالرحمن ابن عوف سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک شخص نے کہا کہ میں نے سوچا حالانکہ میں حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھا کہ قسم خدا کی میں نماز کے لیئے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو تکوں گا ۱؎حتی کہ آپ کا عمل دیکھ لوں تو جب حضور صلی الله علیہ وسلم نے عشاء یعنی عتمہ پڑھ لی تو کافی رات لیٹے رہے ۲؎پھر جاگے تو کنارہ آسمان میں نظر فرمائی،پھر کہا مولا تو نے اسے بے کار نہ بنایا حتی کہلَاْ تُخْلِفُ الْمِیْعَادتک پہنچ گئے ۳؎پھر اپنے بستر کی طرف جھکے وہاں سے مسواک نکالی پھر اسے برتن سے جو آپ کے پاس رکھا تھا پانی پیالے میں انڈیلا ۴؎پھر مسواک کی پھر کھڑے ہوئے نماز پڑھتے رہے ۵؎حتی کہ میں نے سوچا کہ آپ نے سونے کی بقدر نماز پڑھ لی پھر لیٹ گئے حتی کہ میں نے کہاآپ بقدر نماز سولیئے پھر بیدا ہوئے تو جیسا پہلی بار کیا تھا ویسا ہی کیا اور جو پہلے فرمایا تھا ویسا ہی فرمایا ۶؎نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فجر سے پہلے یہ کام تین بار کیا۔(نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎ظاہر یہ ہے کہ یہاں نماز تہجد مراد ہے کیونکہ پنجگانہ نمازیں تو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم باجماعت پڑھتے تھے ان میں تحقیقات کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی یہ صحابہ کا جذبہ عشق ہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کی ہر ادا کو آنکھوں دیکھنا چاہتے ہیں۔؎اس طرح کہ دو تہائی رات سو لیئے یہ عمل وہاں کا ہے جہاں راستہ میں کسی جگہ رات گزارنے کے لیئے سفر منقطع فرما کر نزول فرمایا ورنہ اکثر حضور صلی الله علیہ وسلم رات میں سفر طے کرتے تھے سواری پر ہی کچھ نیند فرما کر تہجد ادا کرتے۔
۳
؎یعنی یہ آیات یہاں تک پڑھیں بعض اوقات آخر سورت تک بھی تلاوت کرتے تھے۔
۴
؎سرہانے مسواک تکیہ کے نیچے رکھنا اور وضو کا پانی رکھنا سنت۔صوفیائے کرام کا اس پر عمل ہے اس کا ماخذ یہ حدیث بھی ہے۔
۵
؎ظاہر یہ ہے کہ آپ نے صرف مسواک کی وضو نہ کیا کیونکہ آپ کی نیند وضو نہیں توڑتی کلی مسواک کے لیئے ہی پانی انڈیلا تھا اور اگر وضو بھی کیا ہو تو وضو پر کیا یا کوئی اور حدث ہوا ہوگا مگر پہلا احتمال قوی ہے۔
۶
؎یعنی رات میں کئی بار بیدا رہوئے اور ہر دفعہ یہ ہی آیات تلاوت کیں اور مسواک و نماز ادا کی تین بار ایسا ہی عمل کیا،تہجد کا یہ عمل بہت ہی افضل ہے کہ گراں ہے بار بار جاگنا سونا آسان نہیں مگر جس پر الله آسان کرے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1209