Main Icon

باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5956

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: أَوَّلُ مَنْ قَدِمَ عَلَيْنَا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ فَجَعَلَا يُقْرِآنِنَا الْقُرْآنَ ثُمَّ جَاءَ عَمَّارٌ وَبِلَالٌ وَسَعْدٌ ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي عِشْرِينَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا رَأَيْتُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ فَرِحُوا بِشَيْءٍ فَرَحَهُمْ بِهٖ حَتّٰى رَأَيْتُ الْوَلَائِدَ وَالصِّبْيَانَ يَقُولُونَ: هٰذَارَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَاءَ فَمَا جَاءَ حَتّٰى قَرَأْتُ: [سَبِّحِ اسْمَ ربِّكَ الْأَعْلٰى] فِي سُوَرٍ مِثْلِهَا مِنَ الْمُفَصَّلِ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

عن البراء قال: أول من قدم علينا من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم مصعب بن عمير وابن أم مكتوم فجعلا يقرآننا القرآن ثم جاء عمار وبلال وسعد ثم جاء عمر بن الخطاب في عشرين من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ثم جاء النبي صلى الله عليه وسلم فما رأيت أهل المدينة فرحوا بشيء فرحهم به حتى رأيت الولائد والصبيان يقولون: هذارسول الله صلى الله عليه وسلم قد جاء فما جاء حتى قرأت: [سبح اسم ربك الأعلى] في سور مثلها من المفصل. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت براء سے ۱؎فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے صحابہ سے جو پہلے ہمارے پاس پہنچے وہ مصعب ابن عمیر اور ابن ام مکتوم تھے وہ دونوں ہم کو قرآن پڑھانے لگے ۲؎پھر جناب عمار و بلال اور سعد آگئے پھر حضرت عمر ابن خطاب بیس صحابہ نبی صلی الله علیہ وسلم کی جماعت میں آپہنچے ۳؎پھر خود نبی صلی الله علیہ وسلم بنفس نفیس تشریف لائے ۴؎تو میں نے مدینہ والوں کو نہیں دیکھا کہ وہ کسی چیز سے خوش ہوئے جیساکہ حضور کی تشریف آوری سے خوش ہوئے حتی کہ میں نے بچیوں اور بچوں کو کہتے سنا کہ یہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم تشریف لے آئے ۵؎پھر آپ نہ آئے حتی کہ"سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَی"ان جیسی مفصل کی سورتوں کے درمیان میں پڑھ چکا تھا ۶؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎براء ابن عازب مشہور انصاری صحابی ہیں،پہلے آپ غزوہ خندق میں شریک ہوئے اس سے پہلے بچہ تھے،حضرت علی کے ساتھ جنگ جمل و صفین میں شریک ہوئےعبدالله ابن زبیر کی خلافت میں کوفہ میں وفات پائی۔(اشعہ)
۲
؎ان دونوں حضرات کو حضور صلی الله علیہ وسلم نے انصار مدینہ کی عرض معروض پر مدینہ منورہ بھیجا تاکہ یہ دونوں انصار کو قرآن اور احکام اسلام کی تعلیم دیں،اولًامدینہ منورہ میں یہ دونوں حضرات آئے۔(اشعہ)
۳
؎اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور انور صلی الله علیہ وسلم کے مدینہ پاک تشریف لے جانے سے پہلے پچیس صحابہ مدینہ منورہ ہجرت کرکے پہنچ چکے تھے اسلام وہاں پھیل چکا تھا۔
۴
؎حضور انور جناب ابوبکر صدیق کے ساتھ مدینہ منورہ ہجرت کرکے پہنچے دن دو شنبہ ربیع الاول کی بارہ تاریخ نبوت کے تیرھویں سال۔
۵
؎مسلم شریفباب حدیث الہجرتمیں ہے کہ اس دن بچیاں بچے مدینہ منورہ کے گلی کوچوں میں یہ کہتے پھرتے تھے یامحمد یارسول الله اور چھتوں پر عورتیں وغیرہا اس جلوس کا نظارہ کرتی تھیں مگر یہ روایت مسلم کی اس روایت کے خلاف نہیں بعض بچے یہ کہتے تھے اور بعض دوسرے بچے جلوس نکالتے تھے،یا اولًا یہ کہا بعد میں جلوس نکالا اور وہ کلمات کہے۔
۶
؎یعنی حضور انور کے مدینہ منورہ تشریف لانے تک ان آنے والے صحابہ کرام سے سورۂ اعلیٰ اور اس جیسی دوسری سورتیں اوساط مفصل کی سیکھ چکا تھا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سورۂ اعلیٰ مکیہ ہے مگر اس پر اعتراض یہ ہے کہ اس سورہ کے آخر میں ہے"قَدْ اَفْلَحَ مَنۡ تَزَکّٰی وَ ذَكَرَ اسْمَ رَبِّہٖ فَصَلّٰی"یہاںتزکیسے مراد ہے صدقہ فطر ادا کرنا اورصلیسے مراد ہے نماز عید پڑھنا۔صدقہ فطر اور نماز عید دونوں ۲ھ؁ ∞ہجری میں آئیں پھر یہ سورت مکیہ کیسے ہوئی اس لیے بعض نے فرمایا کہ ساری سورۂ اعلیٰ تو مکیہ ہے مگر یہ آیت مَدَنِیہ ہے مگر حق یہ ہے کہ پوری سورۂ اعلیٰ مکیہ ہے اس آیت میں نماز عید اور فطرہ کی ترغیب ہے جو مکہ معظمہ میں دی گئی اس پر عمل بعد ہجرت ہوا۔(مرقات)اور ہوسکتا ہے کہ یہاںتزکیسے مراد تزکیہ نفس دل کی صفائی ہو اورصلیسے مراد نماز پنجگانہ ہو اس صورت میں کوئی اشکال نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5956