Main Icon

باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5971

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْهَا:قَالَتْ:رَجَعَ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ مِّنْ جَنَازَةٍ مِّنَ الْبَقِيعِ فَوَجَدَنِي وَأَنَا أَجِدُ صُدَاعًا وَأَنَا أَقُولُ:وَارَأْسَاهْ قَالَ: «بَلْ أَنَا يَا عَائِشَةُ وَارَأْسَاهْ»قَالَ: « وَمَا ضَرَّكِ لَوْ مِتِّ قَبْلِي فَغَسَّلْتُكِ وَكَفَّنْتُكِ وَصَلَّيْتُ عَلَيْكِ وَدَفَنْتُكِ؟» قُلْتُ: لَكَأَنِيِّ بِكَ وَاللّٰهِ لَوْ فَعَلْتَ ذٰلِكَ لَرَجَعْتَ إِلٰى بَيْتِي فَعَرَّسْتَ فِيهِ بِبَعْضِ نِسَائِكَ فَتَبَسَّمَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ بُدِيءَ فِي وَجَعِهٖ الَّذِي مَاتَ فِيهِ. رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ

وعنها:قالت:رجع إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم من جنازة من البقيع فوجدني وأنا أجد صداعا وأنا أقول:وارأساه قال: «بل أنا يا عائشة وارأساه»قال: « وما ضرك لو مت قبلي فغسلتك وكفنتك وصليت عليك ودفنتك؟» قلت: لكأني بك والله لو فعلت ذلك لرجعت إلى بيتي فعرست فيه ببعض نسائك فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم بديء في وجعه الذي مات فيه. رواه الدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتی ہیں کہ ایک دن رسول الله صلی الله علیہ وسلم ایک جنازہ سے بقیع سے واپس ہوئے ۱؎تو مجھے پایا کہ میں درد سر محسوس کرتی تھی اور کہتی تھی ہائے رے سر،فرمایا اے عائشہ بلکہ میں کہتا ہوں کہ ہائے رے سر ۲؎فرمایا کہ تم کو مضر نہیں اگر تم مجھ سے پہلے مرگئیں تو میں تم کو غسل دوں گا کفن پہناؤں گا اور تم پر نماز پڑھوں گا۳؎اور تمہیں دفن کروں گا میں بولی گویا میں آپ کو محسوس کرتی ہوں خدا کی قسم اگر آپ یہ کرتے تو آپ میرے گھر واپس آئیں گے اس میں بعض بیویوں کے ساتھ آرام کریں گے۴؎تب رسول الله صلی الله علیہ وسلم مسکرائے پھر آپ کا وہ مرض شروع ہوگیا جس میں آپ کی وفات ہوئی ۵؎(دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎یہ پتہ نہیں چلا کہ وہ جنازہ کس خوش نصیب کا تھا جو حضور کے ہاتھوں دفن ہوا۔
۲
؎یعنی اے عائشہ تمہارے سر میں درد سر نہیں ہے بلکہ میرے سر میں درد ہے جس کا اثر تم پر پڑ رہا ہے کہ تم اس کی چمک محسوس کر رہی ہو جیساکہ ابھی کچھ پہلے بیان کیا گیا۔
۳
؎یعنی اے عائشہ تمہارا میری حیات میں وفات پانا بہتر ہےکہ تم میرے ہاتھوں غسل،کفن،نماز جنازہ پاؤ گی۔(مرقات)خیال رہے کہ خاوند اپنی بیوی کو نہ تو غسل دے سکتا ہے نہ ہاتھ لگا کر کفن پہنا سکتا ہے یہ حضور انور کی خصوصیت ہے کہ اپنی ازواج پاک کو بعد وفات کفن غسل دے سکتے ہیں،اسی طرح حضرت علی بھی اپنی زوجہ فاطمہ کو غسل اور کفن دے سکتے تھے بلکہ دیا اور حضور انور کی وفات کے بعد حضرت علی اور ازواج پاک نے مل کر غسل دیا۔یہ سب اس لیے تھا کہ حضور انور کی وفات یا ازواج پاک کی وفات سے ان کا نکاح نہیں ٹوٹتا قائم رہتا ہے،اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ فاطمہ دنیا و آخرت میں تمہاری بیوی ہیں اوروں کے نکاح موت سے ٹوٹ جاتے ہیں۔
مسئلہ: خاوند کی موت سے بیوی کا نکاح کسی قدر باقی رہتا ہے کہ اس پر عدت واجب ہے لہذا وہ ضرورۃً خاوند کو غسل دے سکتی ہے مگر بیوی کی موت سے نکاح بالکل ہی ختم ہوجاتا ہے کہ وہاں عدت بھی نہیں اس لیے خاوند ضرورت پر بھی بیوی کو غسل نہیں دے سکتا وہ بالکل ہی اجنبی ہوجاتا ہے۔یہ غلط مشہور ہے کہ خاوند بیوی کے جنازہ کو کندھا بھی نہ دے ضرور دے بلکہ ضرورت پڑنے پر قبر میں وہ ہی اتارے۔نبی کی نیند وضو نہیں توڑتی اور نبی کی وفات نکاح نہیں توڑتی،شہید کی موت غسل نہیں توڑتی۔
۴
؎یعنی میرا گمان یہ ہے کہ اگر میں وفات پا گئی تو آپ مجھے دفن کرکے اس ہی دن میرے ہی گھر میں دوسری بیوی سے آرام فرماہوں گے یہ ہے حضور پر بخل جو عین عبادت ہے۔کسی نے کیا خو ب کہا؎نیناں میں جو آن بسو تو نیناں جھانپ ہی لوں نہ میں دیکھوں اور کو نہ توئے دیکھن دوں
۵
؎حضور کی وفات شریف درد سر اور بخار سے ہوئی ہے،بخار مبارک بیماری ہے دوسری بیماریاں ایک ایک عضو کو ہوتی ہیں اسی کے گناہ اس سے معاف ہوتے ہیں مگر بخار سارے جسم پر چھا جاتا ہے اور رگ رگ کے گناہ نکال کر معاف کرادیتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5971