- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 8
- فضائل کا بیان
- حدیث نمبر 5962
باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5962
فضائل کا بیان - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ لَعِبَتِ الْحَبَشَةُ بِحِرَابِهِمْ فَرَحًا لِقُدُومِهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَفِي رِوَايَةِ الدَّارِمِيِّ قَالَ: مَا رَأَيْت يَوْمًا كَانَ أَقْبَحُ وَلَا أَظْلَمَ مِنْ يَوْمٍ مَاتَ فِيهِ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي رِوَايَةِ التِّرْمِذِيِّ قَالَ: لَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي دَخَلَ فِيهِ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَضَاءَ مِنْهَا كُلُّ شَيْءٍ فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ أَظْلَمَ مِنْهَا كُلُّ شَيْءٍ وَمَا نَفَضْنَا أَيْدِيَنَا عَنِ التُّرَابِ وَإِنَّا لَفِي دَفْنِهٖ حَتّٰى أَنْكَرْنَا قُلُوبَنَا
عن أنس قال: لما قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة لعبت الحبشة بحرابهم فرحا لقدومه. رواه أبو داود وفي رواية الدارمي قال: ما رأيت يوما كان أقبح ولا أظلم من يوم مات فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم وفي رواية الترمذي قال: لما كان اليوم الذي دخل فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة أضاء منها كل شيء فلما كان اليوم الذي مات فيه أظلم منها كل شيء وما نفضنا أيدينا عن التراب وإنا لفي دفنه حتى أنكرنا قلوبنا
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو حبشی بچے اپنے نیزوں سے کھیلتے تھے آپ کی تشریف آوری کی خوشی میں ۱؎(ابوداؤد) اور دارمی کی روایت میں یوں ہے کہ میں نے کوئی دن نہ برا اور نہ بہت تاریک دیکھا اس دن سے جس میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے وفات پائی ۲؎اور ترمذی کی روایت میں ہے کہ جب وہ دن تھا جس میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم مدینہ منورہ میں تشریف فرما ہوئے تو مدینہ کی ہر چیز چمک گئی ۳؎پھر جب وہ دن ہوا جس میں حضور نے وفات پائی تو مدینہ کی ہر چیز تاریک ہوگئی اور ہم نے مٹی سے اپنے ہاتھ نہ جھاڑے حالانکہ ہم حضور کے دفن میں مشغول تھے حتی کہ ہم نے اپنے دلوں کو غیر پایا ۴؎
شرح حدیث
۱∞؎حراب چھوٹا نیزہ،بعض روایات میںبحناجرھمہے یعنی حضور انور کی تشریف آوری کی خوشی میں مدینہ منورہ میں رہنے والے حبشی لوگ نیز ہ بازی یا خنجر بازی کرنے لگے کہ نیزے یا خنجروں کو لے کر یہ لوگ ناچتے کودتے تھے اپنے کرتب دکھاتے تھے۔معلوم ہوا کہ خوشی میں بچوں کا گانابجانا،کھیل کود کرنا جائز بلکہ سنت صحابہ سے ثابت ہے۔عیدمیلاد کے موقعہ پر جلوس نکالنا اور جلوس کے آگے تلوار نیزہ گتکہ پٹا وغیرہ لےکر کرتب دکھانا سب جائز ہے۔جس طریقہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی کی جائےدرست ہے۔اس موقع پر بنی نجار کی بچیاں بھی دف بجاتی تھیں اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی طرف اشارہ کرکے گاتی تھیں،حضور انور صلی الله علیہ وسلم کی خوشی میں شریک ہونا اعلیٰ درجہ کی عبادت ہے۔
۲؎یہ عبارت بالکل ظاہری معنی پر ہے اس میں کسی تاویل کی گنجائش نہیں۔ واقعی اس دن سورج نکلا تھا دھوپ بھی تھی مگر سورج میں بھی تاریکی اور سیاہی تھی اور دھوپ میں بھی وفات شریف کا اثر ہر درودیوار پر ظاہر تھا۔یہ غلط احساس نہ تھا کیوں نہ ہوتا کہ یہ فراق رسول کا دن ہے جیسے شہادت امام حسین کے روز سارا دن سرخ خونی رنگ تھا اورجو پتھر وغیرہ اٹھایا گیا اس کے نیچے خون نمودار ہوا۔
۳؎یہ چمک دھوپ سے نہ تھی بلکہ قدرتی نورانیت تھی جو بیان میں نہیں آسکتی صرف دیکھنے سے ہی تعلق رکھتی ہے جیسے قیامت میں نورانی چمک ہوگی،رب فرماتاہے:"وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوۡرِ رَبِّھَا"۔آج بھی بعض اہلِ بصر باخبر حضرات کو کبھی یہ تجلی ربیع الاول کی بارہویں تاریخ دن میں بلکہ رات میں بھی اور شبِ قدر میں نظر آتی ہے۔فرق یہ ہے کہ اس دن وہ تجلی سب کو نظر آتی تھی اب کسی قسمت والے کو نظر آتی ہے،یہاں مرقات نے فرمایا کہ یہ چمک محسوس تھی۔
۴؎یعنی ابھی ہم حضور انور کے دفن سے فارغ نہیں ہوئے تھےکہ ہمارے دلوں میں وہ نورانیت،صفائی،نرمی رغبت الی الله نہ رہی جوکہ حضور کی حیات شریف میں تھی کیونکہ اب وحی آنا بند ہوگئی،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جمال کا مشاہدہ ختم ہوگیا، تعلیم و تائید ظاہری انتہاء کو پہنچ گئی۔(مرقات و اشعہ)غرضکہ ایمانی حالت تصدیق میں فرق آنا مراد نہیں۔خیال رہے کہ حضور سب کچھ دے گئے مگر اپنا دیدار ساتھ لے گئے جس سے لوگ صحابی بنتے تھے اس لیے تاقیامت حاجی،قاری،قاضی نمازی بنتے رہیں گے مگر صحابی نہ بنیں گے کیونکہ صحابی بنانے والی چیز تو قبر انور میں چھپ گئی؎خوشا وہ وقت کہ دیدار عام تھا اس کا خوشا وہ وقت کہ طیبہ مقام تھا اس کا
ہم خواب میں دیدار کو بھی ترس گئے؎تم آتے خواب میں ہم پتلیاں تلوو ں سے مل لیتے ہم اپنی سوئی قسمت کو جگاتے اپنی آنکھوں سے
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5962