- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 8
- فضائل کا بیان
- حدیث نمبر 5972
باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5972
فضائل کا بیان - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ دَخَلَ عَلٰى أَبِيهِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ فَقَالَ أَلَا أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: بَلٰى حَدِّثْنَا عَنْ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ: " يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللّٰهَ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ تَكْرِيمًا لَكَ وَتَشْرِيفًا لَكَ خَاصَّةً لَكَ يَسْأَلُكَ عَمَّا هُوَ أَعْلَمُ بِهٖ مِنْكَ يَقُولُ: كَيْفَ تَجِدُكَ؟ قَالَ: "أَجِدُنِي يَا جِبْرَئِيلُ! مَغْمُومًا، وَأَجِدُنِي يَا جِبْرَئِيلُ! مَكْرُوبًا ". ثُمَّ جَاءَهُ اليَوْمَ الثَّانِي فَقَالَ لَهٗ ذٰلِكَ فَرَدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا رَدَّ أَوَّلَ يَوْمٍ ثُمَّ جَاءَهُ اليَوْمَ الثَّالِثَ فَقَالَ لَهٗ كَمَا قَالَ أَوَّلَ يَوْمٍ وَرَدَّ عَلَيْهِ كَمَا رَدَّ عَلَيْهِ وَجَاءَ مَعَهٗ مَلَكٌ يُقَالُ لَهُ: إِسْمَاعِيلُ عَلٰى مِائَةِ أَلْفِ مَلَكٍ كُلُّ مَلَكٍ عَلٰى مِائَةِ أَلْفِ مَلَكٍ فَاسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ فَسَأَلَهٗ عَنْهُ. ثُمَّ قَالَ جِبْرِيْلُ: هٰذَامَلَكُ الْمَوْتِ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْكَ. مَا اسْتَأْذَنَ عَلٰى آدَمِيٍّ قَبْلَكَ وَلَا يَسْتَأْذِنُ عَلٰى آدَمِيٍّ بَعْدَكَ. فَقَالَ: ائْذَنْ لَهٗ فَأَذِنَ لَهٗ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللّٰهَ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ فَإِنْ أَمَرْتَنِي أَنْ أَقْبِضَ رُوحَكَ قَبَضْتُ وَإِنْ أَمَرْتَنِي أَنْ أَتْرُكَهٗ تَرَكْتُهٗ فَقَالَ: وَتَفْعَلُ يَا مَلَكَ الْمَوْتِ؟ قَالَ: نَعَمْ بِذٰلِكَ أُمِرْتُ وأُمِرْتُ أَنْ أُطِيْعَكَ. قَالَ: فَنَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلٰى جِبْرِيْلَ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ جِبْرِيلُ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللّٰهَ قَدِ اشْتَاقَ إِلٰى لِقَائِكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَلَكِ الْمَوْتِ: «امْضِ لِمَا أُمِرْتَ بِهِ» فَقَبَضَ رُوحَهٗ فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَاءَتِ التَّعْزِيَةُ سَمِعُوا صَوْتًا مِنْ نَاحِيَةِ الْبَيْتِ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهٗ إِنَّ فِي اللّٰهِ عَزَاءً مِنْ كُلِّ مُصِيبَةٍ وَخَلَفًا مِنْ كُلِّ هَالِكٍ وَدَرَكاً مِنْ كُلِّ فَائِتٍ فَبِاللهِ فَاتَّقُوا وَإِيَّاهُ فَارْجُوا فَإِنَّمَا الْمُصَابُ مَنْ حُرِمَ الثَّوَابَ. فَقَالَ عَلِيٌّ: أَتَدْرُونَ مَنْ هٰذَا ؟ هُوَ الْخَضِرُ عَلَيْهِ السَّلَامُ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ»
وعن جعفر بن محمد عن أبيه أن رجلا من قريش دخل على أبيه علي بن الحسين فقال ألا أحدثك عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: بلى حدثنا عن أبي القاسم صلى الله عليه وسلم قال: لما مرض رسول الله صلى الله عليه وسلم أتاه جبريل فقال: " يا محمد إن الله أرسلني إليك تكريما لك وتشريفا لك خاصة لك يسألك عما هو أعلم به منك يقول: كيف تجدك؟ قال: "أجدني يا جبرئيل! مغموما، وأجدني يا جبرئيل! مكروبا ". ثم جاءه اليوم الثاني فقال له ذلك فرد عليه النبي صلى الله عليه وسلم كما رد أول يوم ثم جاءه اليوم الثالث فقال له كما قال أول يوم ورد عليه كما رد عليه وجاء معه ملك يقال له: إسماعيل على مائة ألف ملك كل ملك على مائة ألف ملك فاستأذن عليه فسأله عنه. ثم قال جبريل: هذاملك الموت يستأذن عليك. ما استأذن على آدمي قبلك ولا يستأذن على آدمي بعدك. فقال: ائذن له فأذن له فسلم عليه ثم قال يا محمد إن الله أرسلني إليك فإن أمرتني أن أقبض روحك قبضت وإن أمرتني أن أتركه تركته فقال: وتفعل يا ملك الموت؟ قال: نعم بذلك أمرت وأمرت أن أطيعك. قال: فنظر النبي صلى الله عليه وسلم إلى جبريل عليه السلام فقال جبريل: يا محمد إن الله قد اشتاق إلى لقائك فقال النبي صلى الله عليه وسلم لملك الموت: «امض لما أمرت به» فقبض روحه فلما توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وجاءت التعزية سمعوا صوتا من ناحية البيت: السلام عليكم أهل البيت ورحمة الله وبركاته إن في الله عزاء من كل مصيبة وخلفا من كل هالك ودركا من كل فائت فبالله فاتقوا وإياه فارجوا فإنما المصاب من حرم الثواب. فقال علي: أتدرون من هذا ؟ هو الخضر عليه السلام. رواه البيهقي في «دلائل النبوة»
حدیث ترجمہ
روایت ہے جعفر ابن محمد سے وہ اپنے والد سے راوی کہ ایک قریشی آدمی ان کے والد علی ابن حسین کے پاس آیا ۱؎بولا کیا میں تم کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی حدیث نہ سناؤں آپ نے فرمایا ہاں ہم کو ابو القاسم صلی الله علیہ وسلم کی حدیث سناؤ وہ بولا کہ جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم بیمار ہوئے تو آپ کے پاس جبریل آئے ۲؎عرض کیا اے محمد مجھے الله نے آپ کے پاس بھیجا ہے خصوصیت سے آپ کی عزت افزائی فرمانے احترام فرمانے کے لیے۳؎رب آپ سے اس کے متعلق پوچھتا ہے جووہ آپ سے زیادہ جانتا ہے کہ آپ اپنے کو کیسا پاتے ہیں۴؎فرمایا اے جبریل میں اپنے کو غمگین پاتا ہوں اور اپنے کو ملول پاتا ہوں ۵؎پھر حضور کی خدمت میں دوسرے دن حاضر ہوئے آپ سے یہ ہی عرض کیا نبی صلی الله علیہ وسلم نے ویسا ہی جواب دیا جو پہلے دن دیا تھا پھر آپ کے پاس تیسرے دن آئے تو وہی عرض کیا جو پہلے دن عرض کیا تھا اور حضور نے انہیں وہی جواب دیا جو پہلے دیا تھا ۶؎اور ان کے ساتھ ایک فرشتہ آیا جسے اسمعیل کہا جاتا ہے ۷؎وہ ایک لاکھ ایسے فرشتوں کا سردار ہے جو ہر ایک ایک لاکھ پر سردار ہے اس نے حضور سے اجازت مانگی پھر آپ سے اس سے متعلق پوچھا پھر جبریل نے کہا یہ موت کا فرشتہ آپ سے اجازت مانگ رہا ہے ۸؎اس نے آپ سے پہلے کسی آدمی سے اجازت نہ مانگی اور نہ آپ کے بعد کسی آدمی سے اجازت مانگے گا ۹؎فرمایا اسے اجازت دے دو انہوں نے اسے اجازت دے دی پھر کہا اے محمد الله نے مجھے آپ کی خدمت میں بھیجا ہے تو اگر آپ مجھے اجازت دیں تو میں آپ کی جان قبض کر لوں اور اگر آپ مجھے چھوڑنے کا حکم دیں تو اسے چھوڑوں دوں ۱۰؎تو فرمایا اے ملک الموت کیا تم یہ کام کرو گے ۱۱؎عرض کیا ہاں مجھے اسی کا حکم ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ آپ کی اطاعت کروں،فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے حضرت جبریل کی طرف دیکھا ۱۲؎تو جبریل نے عرض کیا کہ اے محمد الله تعالٰی آپ کی ملاقات کا مشتاق ہے۱۳؎تو نبی صلی الله علیہ وسلم نے ملک الموت سے فرمایا کہ جس کا تم کو حکم دیا گیا ہے وہ کرگزرو چنانچہ انہوں نے آپ کی روح قبض کرلی ۱۴؎جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے وفات پائی اور تعزیت کا وقت آیا۱۵؎تو لوگوں نے گھر کے ایک کنارہ سے آواز سنی کہ اے گھر والوں تم پر سلام اور الله کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں الله کی راہ میں ہر مصیبت سے صبر کرنا ہے ۱۶؎اور ہر فوت شدہ کا خلیفہ ہے ۱۷؎اور ہرگزر جانے والے کا عوض ہے ۱۸؎تو الله سے ہی ڈرو اوراس سے امید رکھو پورا مصیبت زدہ وہ ہے جو ثواب سے محروم کردیا گیا ۱۹؎حضرت علی نے فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون ہے یہ خضر علیہ السلام ہیں۲۰؎(بیہقی دلائل النبوہ)۲۱؎
شرح حدیث
۱∞؎یعنی حضرت امام جعفر صادق اپنے والد محمد باقر سےروایت کرتے ہیں کہ ایک قریشی ان کے والد حضرت امام زین العابدین کے پاس آیا۔امام حسین کے تین بیٹے تھے،تینوں کے نام علی تھے علی اکبر،علی اوسط،علی اصغر۔علی اوسط امام زین العابدین ہیں،علی اکبر علی اصغرکربلا میں شہید ہوئے۔
۲؎یہ حدیث مرسل ہے کیونکہ اس میں صحابی کا ذکر نہیں۔امام زین العابدین صحابی نہیں بلکہ تابعی ہیں،تابعی کا کسی حدیث کو حضور کی طرف نسبت کرنا ارسال ہے۔
۳؎یعنی الله تعالٰی نے مرض وفات میں آپ کے سوا کسی کی مزاج پرسی نہیں فرمائی یہ آپ کی خصوصیت ہے۔خیال رہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام کی بیماری میں بھی رب تعالٰی ان کی مزاج پرسی فرماتا تھا جیساکہ تفسیر روح البیان وغیرہ میں ہے اسی لیے آپ صحت یاب ہونے کے بعد اس مزاج پرسی کے بند ہو جانے پر رویا کرتے تھے،فرماتے تھے کہ وہ خطاب بڑا ہی لذیذ ہوتا تھا مگر وہ مزاج پرسی مرض وفات میں نہ تھی لہذا یہ مزاج پرسی حضور کی خصوصیت ہے اورخاصۃ لكفرمانے پر کوئی اعتراض نہیں۔
۴؎سبحان الله!کیسی بیماری ہے اور کیسی پیاری مزاج پرسی،اس بیماری پر ہزار ہا تندرستیاں قربان ہوں جس میں رب تعالٰی مزاج پوچھے؎سر بالیں انہیں رحمت کی ادا لائی ہے حال بگڑا ہے تو بیمار کی بن آئی ہے
۵؎غم اور کرب یعنی تکلیف میں فرق ظاہر ہے یہ غم و تکلیف اپنی امت اور اپنے دین کے فکر سے تھی کہ میری امت اور میرے دین کا میرے بعد کیا بنے گا۔(اشعۃ اللمعات)لہذا یہ فرمان بے صبری نہیں اور اگر مرض کی تکلیف مراد ہے تب بھی بے صبری نہیں۔تیمار دار جب اپنا غمگسار بھی ہو تو اس سے اپنی تکلیف کا اظہار بے صبری نہیں،یہ عرض رب تعالٰی سے ہے۔ یعقوب علیہ السلام سید الصابرین ہیں مگر فرماتے ہیں"اِنَّمَاۤ اَشْکُوۡا بَثِّیۡ وَحُزْنِیۡۤ اِلَی اللهِ"رب کی بھیجی ہوئی تکلیف مزیدار ہوتی ہے اور اس کی مزاج پرسی زیادہ لذیذ؎اب حالت زخم جگری پوچھتے کیا ہو جب تم ہی نمک پاش ہو پھر کیوں نہ مزہ ہو
۶؎خیال رہے کہ ان تینوں دنوں میں صرف مزاج پرسی کی گئی نہ تو صبر کی تلقین کی گئی نہ تخفیف تکلیف کا وعدہ فرمایا گیا کہ اچھا ہم مرض ہلکا فرمادیں گے۔مطلب یہ ہے کہ مرض ویسا ہی رہے گا ہاں مزاج پرسی فرماتے رہیں گے تاکہ اس کی لذت سے مرض کی تکلیف محسوس نہ ہو۔حسن یوسفی سے مست ہوکر مصری عورتیں ہاتھ کٹنے کی تکلیف محسوس نہ کرسکیں تو خطاب الٰہی کی لذت میں مرض کی تکلیف کا احساس کیا ہو۔
۷؎اسماعیل فرشتے کا ہیڈکوارٹر پہلا آسمان ہے یعنی آسمان دنیا،یہ فرشتہ جبریل علیہ السلام کے ساتھ ہی آیا تھا اس فرشتہ نے بھی حضور سے حاضری کی اجازت مانگی تھی۔
۸؎حضرت جبریل اور اسمعیل دونوں فرشتے پہلے حضور کی بارگاہ میں حاضر ہوگئے تھے حضرت عزرائیل علیہ السلام نے بعد میں آنے کی اجازت مانگی۔
۹؎خیال رہے کہ حضرت ملک الموت نے ان تمام نبیوں کی جان ان کی اجازت سے قبض فرمائی مگر کسی نبی سے ان کے گھر میں آنے کی اجازت نہیں مانگی،یہ حاضری کی اجازت مانگنا حضور کے لیے خاص ہے لہذا حدیث واضح ہے؎بے اجازت ان کے گھر میں جبریل آتے نہیں آنکھ والے جانتے ہیں احترام اہلِ بیت
رب فرماتا ہے:"یٰۤاَیُّھَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَدْخُلُوۡا بُیُوۡتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنۡ یُّؤْذَنَ لَکُمْ"اس حکم میں فرشتے بھی داخل ہیں۔الذین امنوامیں کبھی صرف انسان مؤمن داخل ہوتے ہیں،کہیں جن و انس مسلمان اور کہیں جن و انس فرشتے سارے مؤمنین یہاں آخری صورت ہے،اس کی تحقیق ہماری تفسیر میں دیکھو۔
۱۰؎حضرت ملک الموت کی یہ دوسری اجازت طلبی ہے پہلی اجازت دولت خانہ میں حاضری کی تھی اور یہ اجازت طلبی قبض روح کی ہے یہ اجازت سارے نبیوں سے لی جاتی ہے یہ فرق خیال میں رہے۔اترکہمیںہکامرجع روح ہے۔روح کے لیے ضمیر مذکر و مؤنث دونوں آتی ہیں۔(مرقات)خیال رہے کہ فرشتوں سے یہ سوال و جواب اس طرح ہوئے جو دوسروں کو محسوس نہ تھے یا حضور انور کو خبر ہوئی،یا ان فرشتوں کو یا حضور کے بتانے سے یا خاص کشف سے جو صاحبِ کشف صحابہ کو معلوم ہوئے لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ اس وقت تو صرف حضرت عائشہ حاضر تھیں جن کے سینہ پر حضور انور کا سر تھا وہ تو یہ روایات بیان نہیں فرماتیں جیسے ام المؤمنین کے بستر میں وحی آتی تھی انہیں خبر بھی نہ ہوتی تھی حضور فرماتے تھے کہ اے عائشہ تم کو جبریل سلام کہہ رہے ہیں ایسے ہی یہ گفتگو ہوئی۔بعض واعظین بیان کردیتے ہیں کہ ملک الموت سے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا کی طویل گفتگو ہوئی کہ ملک الموت نے آنے کی اجازت مانگی جناب فاطمہ رضی اللہ عنھا نے انکار کیا،پھر بہت دراز گفتگو ہوئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا فاطمہ کیا ہے آپ نے واقعہ بیان کیا،فرمایا یہ تیرے گھر کا ادب ہے جو وہ اجازت مانگ رہے ہیں،یہ ملک الموت ہیں کسی سے اجازت نہیں مانگا کرتے،یہ سب غلط ہے حضور اس وقت نہ تو فاطمہ زہرا کے گھر میں تھے نہ فاطمہ زہرا وہاں موجود تھیں اس روایت کا کہیں ثبوت نہیں۔
۱۱؎یعنی کیا تم جان قبض کرنے نہ کرنے میں میری بات مانو گے میری اطاعت کرو گے۔
۱۲؎حضور کا حضرت جبریل کو دیکھنا مشورہ لینے کے لیے تھا کہ بولو کیا رائے ہے چلیں یا یہیں رہیں۔
۱۳؎یعنی رب تعالٰی کا آپ کو بلانا محبت خاص کی بنا پر ہے،رب تعالٰی کو آپ کی وہاں تشریف آوری کا شوق ہے۔خیال رہے کہ رب تعالٰی ہر جگہ سے ہر چیز کو دیکھتا ہے وہ حضور انور سے دور نہیں تھا مگر حضور کو اپنے قرب خصوصی اور عالم انوار میں بلا کر آپ کو دیکھنے آپ سے کلام کرنے کا مشتاق تھا۔لہذا اس حدیث پر اعتراض نہیں کہ الله تعالٰی تو ہر وقت حضور سے قریب ہے"نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیۡهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیۡدِ"پھر مشتاق ہونے کے کیا معنی،اپنے گھراپنے قرب میں بلانے کا مشتاق تھا۔رب تعالٰی کو مشتاق کہا جاسکتاہے،یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ الله تعالٰی کو شوق ملاقات تھا اسے اشتیاق تھا۔
۱۴؎قبض روح کی صورت پہلے مذکور ہوچکی کہ حضور کا ہاتھ دعا کے لیے اٹھا ہوا تھا کہ اچانک حضرت عائشہ صدیقہ کی گودمیں گر گیا جس سے پتہ چلا کہ وفات ہوگئی۔
۱۵؎اس طرح کہ گوشہ گوشہ سے تعزیت کے پیغام آنے لگے۔تعزیت کے معنی ہیں پس ماندگان کو تسلی دینا۔تعزیت دفن سے پہلے بھی ہوتی ہے اور بعد دفن بھی،یہ تعزیت دفن سے پہلے تھی ابھی سرکار کا جسم اطہر گھر میں تھا۔
۱۶؎یعنی آپ لوگ الله کو راضی کرنے کے لیے اس مصیبت عظمیٰ پر صبر کرو اس کا بڑا اجر ہے۔
۱۷؎جس کسی کو رب تعالٰی وفات دیتا ہے تو اس کے پیچھے والوں کا خود انتظام فرماتا ہے ،اسکی بیوہ اس کے یتیموں کو خود سنبھالتا ہے یہ معنی ہیں خلیفہ کے۔حضورکی وفات سے امت یتیم رہ گئی الله تعالٰی اسے خود سنبھالے گا۔
۱۸؎یعنی رب تعالٰی بندہ سے جب کوئی نعمت لے لیتا ہے تو اس کا عوض دنیا یا آخرت میں عطا فرماتا ہے بشرطیکہ بندہ صابر رہے؎لکل شیئ اذا فارقتہ خلف
ولیس ﷲ ان فارقت من عوضیعنی ہر فوت شدہ چیز کا عوض مل جاتا ہے مگر جس سے الله کا راہ چھوٹ گیا اس کا عوض کچھ نہیں الله اس سے محروم نہ کرے۔
۱۹؎یعنی بڑی مصیبت والا شخص وہ ہے جو مصیبت پر بے صبری کرکے اس کے ثواب سے محروم ہوجائے۔
۲۰؎ظاہر یہ ہے کہ علی سے مراد حضرت علی ابن ابی طالب ہیں،انہوں نے اس وقت حاضرین سے یہ فرمایا آواز پہچان کر بتایا۔ ممکن ہے کہ علی سے مراد حضرت امام زین العابدین ہوں جنہوں نے اس وقت یہ فرمایا یعنی اس حدیث کی روایت کے وقت امام جزری نے حصن حصین شریف میں روایت کی کہ پہلے فرشتوں نے تعزیت کی۔حاکم نے مستدرک میں فرمایا کہ فرشتوں کی تعزیت کے بعد ایک سفید ریش نہایت حسین و جمیل تندرست لوگوں کو چیرتے ہوئے حضور انور کے جسم اطہر تک پہنچے اور یہ الفاظ کہے جو یہاں مذکور ہیں۔حضرت ابو بکر صدیق اور علی مرتضٰی نے فرمایا کہ یہ حضرت خضر علیہ السلام ہیں بہرحال اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام زندہ ہیں۔(مرقات و اشعہ)
۲۱؎بعض محدثین نے اسے ضعیف بلکہ موضوع کہا ہے مگر چونکہ یہ حدیث بہت سندوں سے مروی ہے،ان سندوں کے تعداد سے متن حدیث قوی ہوگیا اور یہ حدیث حرام حلال احکام شرعیہ کی نہیں صرف فضائل کی ہے،فضائل میں حدیث ضعیف بھی مقبول ہے۔(مرقات)مگر اس حدیث کا مطلب وہ ہی ہے جو فقیر نے ابھی عرض کیا۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5972