Main Icon

باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5969

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ إِذَا جَآءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ دَعَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ قَالَ: «نُعِيَتْ إِلَيَّ نَفْسِيْ» فَبَكَتْ قَالَ: «لَا تَبْكِي فَإِنَّكِ أَوَّلُ أَهْلِيْ لَاحِقٌ بِي» فَضَحِكَتْ فَرَآهَا بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَ:يَا فَاطِمَةُ رَأَيْنَاكِ بَكَيْتِ ثُمَّ ضَحِكْتِ.قَالَتْ: إِنَّهٗ أَخْبَرَنِي أَنَّهٗ قَدْ نُعِيَتْ إِلَيْهِ نَفْسُهٗ فَبَكَيْتُ فَقَالَ لِي:لَا تبْكي فَإِنَّكِ أَوَّلُ أَهلِي لَاحِقٌ بِي فَضَحِكْتُ.وَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ وَجَاءَ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً وَالْإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٍ» . رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ

وعن ابن عباس قال: لما نزلت إذا جاء نصر الله والفتح دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم فاطمة قال: «نعيت إلي نفسي» فبكت قال: «لا تبكي فإنك أول أهلي لاحق بي» فضحكت فرآها بعض أزواج النبي صلى الله عليه وسلم فقلن:يا فاطمة رأيناك بكيت ثم ضحكت.قالت: إنه أخبرني أنه قد نعيت إليه نفسه فبكيت فقال لي:لا تبكي فإنك أول أهلي لاحق بي فضحكت.وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا جاء نصر الله والفتح وجاء أهل اليمن هم أرق أفئدة والإيمان يمان والحكمة يمانية» . رواه الدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ جب آیتاذا جاء نصر الله،الخ نازل ہوئی تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جناب فاطمہ کو بلایا فرمایا مجھے اپنی موت کی خبر دے دی گئی ۱؎وہ روئیں تو فرمایا مت روؤ کیونکہ میرے گھر والوں میں سے پہلے مجھ سے تم ملوگی ۲؎آپ ہنس پڑیں۳؎انہیں نبی صلی الله علیہ وسلم کی بعض بیویوں نے دیکھ لیا وہ بولیں اے فاطمہ ہم نے تم کو دیکھا کہ تم روئیں پھر ہنس پڑیں۴؎آپ بولیں کہ حضور نے مجھے خبر دی کہ آپ کو آپ کی وفات کی خبر دی گئی تو میں رونے لگی تو فرمایا مت روؤ کیونکہ تم میرے سب گھر والوں سے پہلے مجھ سے ملوگی تو میں ہنس پڑی ۵؎اور رسول الله نے فرمایا کہاذا جاء نصرالله والفتح،الخ اور یمن والے آئے ۶؎وہ دلوں کے نرم ہیں ایمان تو یمن والوں کا ہے اور حکمت یمن والی ۷؎(دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اے فاطمہ یہ سورۃ کریمہ میری وفات کی خبر دے رہی ہے کیونکہ میرے دنیا میں تشریف لانے کا مقصد پورا ہو چکا یعنی دین کی تکمیل،مکہ معظمہ کی فتح،خانہ کعبہ کا بتوں سے پاک ہوجانا۔چنانچہ گذشتہ آسمانی کتب میں لکھا تھا کہ الله تعالٰی نبی آخر الزمان کو وفات نہ دے گا حتی کہ ان کے ذریعہ ٹیڑھی ملت کو سیدھا کردے گا یہ کام ہوچکا اب ہمارے یہاں رہنے کی کیا ضرورت ہے، مجھے حکم دیا گیا ہے کہ رب کی تسبیح وحمد وغیرہ میں مصروف ہوجاؤں یہ اس سفر کی تیاری ہے۔(ازمرقات)
۲
؎اس فرمان عالی سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ حضرت فاطمہ زہرا حضور انور کے اہلبیت میں سے ہیں ،ازواج پاک اہلبیت سکونت ہیں ،آپ اہلبیت ولادت۔دوسرے یہ کہ حضور انور نے حضرت فاطمہ زہرا کے وقت وفات کی بھی خبر دی اور طریقہ وفات کی بھی،بعد وفات ان کے مقام کی بھی یعنی ہمارے گھر والوں میں سب سے پہلے تمہاری وفات ہوگی تم کو ایمان پر خاتمہ،قبر کے امتحان میں کامیابی عطا ہوگی،تمہارا مقام میرے پاس ہوگا،یہ ہے حضور کا علم غیب کلی کہ علوم خمسہ پر بھی مطلع فرمادیا گیا ہے؎خدا مطلع ساخت برجملہ غیب علی کل شیئ خبیر آمدی
۳
؎سبحان الله!حضرت فاطمہ زہرا کے لیے موت عید ہوگئی اپنی وفات کی خبر پر خوشی منارہی ہیں کیوں نہ ہو کہ یہ وفات حضور کی ملاقات کا ذریعہ ہے اس لیے بزرگوں کی وفات کو عرس کہتے ہیں یعنی برات اس کا ماخذ حضرت فاطمہ کی یہ خوشی ہے رضی الله عنہا۔
۴
؎اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سوال کرنے والی چند بیویاں ہیں،دوسری حدیث میں ہےکہ یہ سوال حضرت عائشہ صدیقہ نے کیا تھا،ہوسکتا ہے کہ سوال تو حضرت عائشہ نے کیا ہو دوسری ازواج پاک بھی سوال میں شریک ہوگئی ہوں لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں۔
۵
؎خیال رہے کہ حضرت فاطمہ زہرا نے یہ خبر حضور صلی الله علیہ وسلم کے پردہ فرمانے کے بعد دی آپ کی حیات شریف میں جواب دینے سے انکار کردیا،یہاں یہ ہی مراد ہے حضرت فاطمہ سیدہ نے حضور کی وفات کے بعد یہ فرمایا جب کہ دوبارہ ازواج پاک نے پوچھا،چنانچہ فاطمہ حضور کی وفات کے بعد قریبًا چھ ماہ زندہ رہیں۔
۶
؎یعنی اس سورۃ میں اشارہ ہے"وَ رَاَیۡتَ النَّاسَ یَدْخُلُوۡنَ فِیۡ دِیۡنِاللهِ اَفْوَاجًا"تو یہاںالناسسے مراد اہل یمن ہیں کہ یہ لوگ فتح مکہ کے بعدجوق در جوق اسلام لائے۔خیال رہے کہ اس حدیث کا مقصد یہ نہیں ہے کہ یہاںالناسسے صرف اہل یمن ہی مراد نہیں بلکہ فتح مکہ کے دن ایمان لانے والے اور اس کے بعد حضور کی بارگاہ میں حاضری دے کر ایمان لانے والے سب ہی مراد ہیں،ان سب لوگوں کے مؤمن ہونے کی قرآن نے گواہی دی لہذا ابو سفیان ہندہ،امیر معاویہ وحشی یہ سب لوگ بحکم قرآن مؤمن ہیں،ان کے ایمان اور دین اسلام میں داخل ہونے کی خبر تو قرآن نے دی ان کے ایمان سے نکل جانے کی کوئی آیت نہیں ہے،نیز اگر یہ لوگ آئندہ مرتد ہوجانے والے ہوتے تو ان کے ایمان لانے پر حضور کو شکر کا حکم نہ دیا جاتا۔خیال رہے کہ الله تعالٰی نے صحابہ کرام کو حضرات انبیاء سے بہت ہی مناسبت دی ہے۔چنانچہ کل انبیاءکرام ایک لاکھ چوبیس ہزار ہیں جن میں رسول تین سو تیرہ ہیں مرسل چار اور مرسلین میں سردار مرسلین ایک ہیں یعنی محمد مصطفی صلی الله علیہ وسلم،اسی طرح حضرات صحابہ کرام ایک لاکھ چوبیس ہزار ان میں اصحابِ بدر تین سو تیرہ ہیں اور خلفاء راشدین چار ہیں اور سید الخلفاء ایک یعنی حضرت ابوبکر صدیق۔
۷
؎یعنی علم و ایمان یمن کا پیارا ہے کیوں نہ ہو کہ وہ علاقہ حجاز سے متصل داہنی طرف واقع اس لیے اسے یمن کہتے ہیں،یمین سے مشتق ہے وہ عشاق رسول کا علاقہ ہے۔چنانچہ حضرت اویس قرنی یمن ہی کے ہیں رضی الله عنہ،ابو موسیٰ اشعری یمن کے ہیں بلکہ حضرات انصار بھی اصل میں یمن ہی کے باشندے ہیں بعد میں مدینہ میں بسے۔حدیث شریف میں ہےانی لاجدنفس الرحمن من جانب الیمن،فتوحات مکہ شریف میں اس حدیث کے یہ ہی معنی بیان کیے۔(اشعۃ اللمعات، مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5969