- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 8
- فضائل کا بیان
- حدیث نمبر 5969
باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5969
فضائل کا بیان - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ إِذَا جَآءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ دَعَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ قَالَ: «نُعِيَتْ إِلَيَّ نَفْسِيْ» فَبَكَتْ قَالَ: «لَا تَبْكِي فَإِنَّكِ أَوَّلُ أَهْلِيْ لَاحِقٌ بِي» فَضَحِكَتْ فَرَآهَا بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَ:يَا فَاطِمَةُ رَأَيْنَاكِ بَكَيْتِ ثُمَّ ضَحِكْتِ.قَالَتْ: إِنَّهٗ أَخْبَرَنِي أَنَّهٗ قَدْ نُعِيَتْ إِلَيْهِ نَفْسُهٗ فَبَكَيْتُ فَقَالَ لِي:لَا تبْكي فَإِنَّكِ أَوَّلُ أَهلِي لَاحِقٌ بِي فَضَحِكْتُ.وَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ وَجَاءَ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً وَالْإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٍ» . رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ
وعن ابن عباس قال: لما نزلت إذا جاء نصر الله والفتح دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم فاطمة قال: «نعيت إلي نفسي» فبكت قال: «لا تبكي فإنك أول أهلي لاحق بي» فضحكت فرآها بعض أزواج النبي صلى الله عليه وسلم فقلن:يا فاطمة رأيناك بكيت ثم ضحكت.قالت: إنه أخبرني أنه قد نعيت إليه نفسه فبكيت فقال لي:لا تبكي فإنك أول أهلي لاحق بي فضحكت.وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا جاء نصر الله والفتح وجاء أهل اليمن هم أرق أفئدة والإيمان يمان والحكمة يمانية» . رواه الدارمي
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ جب آیتاذا جاء نصر الله،الخ نازل ہوئی تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جناب فاطمہ کو بلایا فرمایا مجھے اپنی موت کی خبر دے دی گئی ۱؎وہ روئیں تو فرمایا مت روؤ کیونکہ میرے گھر والوں میں سے پہلے مجھ سے تم ملوگی ۲؎آپ ہنس پڑیں۳؎انہیں نبی صلی الله علیہ وسلم کی بعض بیویوں نے دیکھ لیا وہ بولیں اے فاطمہ ہم نے تم کو دیکھا کہ تم روئیں پھر ہنس پڑیں۴؎آپ بولیں کہ حضور نے مجھے خبر دی کہ آپ کو آپ کی وفات کی خبر دی گئی تو میں رونے لگی تو فرمایا مت روؤ کیونکہ تم میرے سب گھر والوں سے پہلے مجھ سے ملوگی تو میں ہنس پڑی ۵؎اور رسول الله نے فرمایا کہاذا جاء نصرالله والفتح،الخ اور یمن والے آئے ۶؎وہ دلوں کے نرم ہیں ایمان تو یمن والوں کا ہے اور حکمت یمن والی ۷؎(دارمی)
شرح حدیث
۱∞؎یعنی اے فاطمہ یہ سورۃ کریمہ میری وفات کی خبر دے رہی ہے کیونکہ میرے دنیا میں تشریف لانے کا مقصد پورا ہو چکا یعنی دین کی تکمیل،مکہ معظمہ کی فتح،خانہ کعبہ کا بتوں سے پاک ہوجانا۔چنانچہ گذشتہ آسمانی کتب میں لکھا تھا کہ الله تعالٰی نبی آخر الزمان کو وفات نہ دے گا حتی کہ ان کے ذریعہ ٹیڑھی ملت کو سیدھا کردے گا یہ کام ہوچکا اب ہمارے یہاں رہنے کی کیا ضرورت ہے، مجھے حکم دیا گیا ہے کہ رب کی تسبیح وحمد وغیرہ میں مصروف ہوجاؤں یہ اس سفر کی تیاری ہے۔(ازمرقات)
۲؎اس فرمان عالی سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ حضرت فاطمہ زہرا حضور انور کے اہلبیت میں سے ہیں ،ازواج پاک اہلبیت سکونت ہیں ،آپ اہلبیت ولادت۔دوسرے یہ کہ حضور انور نے حضرت فاطمہ زہرا کے وقت وفات کی بھی خبر دی اور طریقہ وفات کی بھی،بعد وفات ان کے مقام کی بھی یعنی ہمارے گھر والوں میں سب سے پہلے تمہاری وفات ہوگی تم کو ایمان پر خاتمہ،قبر کے امتحان میں کامیابی عطا ہوگی،تمہارا مقام میرے پاس ہوگا،یہ ہے حضور کا علم غیب کلی کہ علوم خمسہ پر بھی مطلع فرمادیا گیا ہے؎خدا مطلع ساخت برجملہ غیب علی کل شیئ خبیر آمدی
۳؎سبحان الله!حضرت فاطمہ زہرا کے لیے موت عید ہوگئی اپنی وفات کی خبر پر خوشی منارہی ہیں کیوں نہ ہو کہ یہ وفات حضور کی ملاقات کا ذریعہ ہے اس لیے بزرگوں کی وفات کو عرس کہتے ہیں یعنی برات اس کا ماخذ حضرت فاطمہ کی یہ خوشی ہے رضی الله عنہا۔
۴؎اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سوال کرنے والی چند بیویاں ہیں،دوسری حدیث میں ہےکہ یہ سوال حضرت عائشہ صدیقہ نے کیا تھا،ہوسکتا ہے کہ سوال تو حضرت عائشہ نے کیا ہو دوسری ازواج پاک بھی سوال میں شریک ہوگئی ہوں لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں۔
۵؎خیال رہے کہ حضرت فاطمہ زہرا نے یہ خبر حضور صلی الله علیہ وسلم کے پردہ فرمانے کے بعد دی آپ کی حیات شریف میں جواب دینے سے انکار کردیا،یہاں یہ ہی مراد ہے حضرت فاطمہ سیدہ نے حضور کی وفات کے بعد یہ فرمایا جب کہ دوبارہ ازواج پاک نے پوچھا،چنانچہ فاطمہ حضور کی وفات کے بعد قریبًا چھ ماہ زندہ رہیں۔
۶؎یعنی اس سورۃ میں اشارہ ہے"وَ رَاَیۡتَ النَّاسَ یَدْخُلُوۡنَ فِیۡ دِیۡنِاللهِ اَفْوَاجًا"تو یہاںالناسسے مراد اہل یمن ہیں کہ یہ لوگ فتح مکہ کے بعدجوق در جوق اسلام لائے۔خیال رہے کہ اس حدیث کا مقصد یہ نہیں ہے کہ یہاںالناسسے صرف اہل یمن ہی مراد نہیں بلکہ فتح مکہ کے دن ایمان لانے والے اور اس کے بعد حضور کی بارگاہ میں حاضری دے کر ایمان لانے والے سب ہی مراد ہیں،ان سب لوگوں کے مؤمن ہونے کی قرآن نے گواہی دی لہذا ابو سفیان ہندہ،امیر معاویہ وحشی یہ سب لوگ بحکم قرآن مؤمن ہیں،ان کے ایمان اور دین اسلام میں داخل ہونے کی خبر تو قرآن نے دی ان کے ایمان سے نکل جانے کی کوئی آیت نہیں ہے،نیز اگر یہ لوگ آئندہ مرتد ہوجانے والے ہوتے تو ان کے ایمان لانے پر حضور کو شکر کا حکم نہ دیا جاتا۔خیال رہے کہ الله تعالٰی نے صحابہ کرام کو حضرات انبیاء سے بہت ہی مناسبت دی ہے۔چنانچہ کل انبیاءکرام ایک لاکھ چوبیس ہزار ہیں جن میں رسول تین سو تیرہ ہیں مرسل چار اور مرسلین میں سردار مرسلین ایک ہیں یعنی محمد مصطفی صلی الله علیہ وسلم،اسی طرح حضرات صحابہ کرام ایک لاکھ چوبیس ہزار ان میں اصحابِ بدر تین سو تیرہ ہیں اور خلفاء راشدین چار ہیں اور سید الخلفاء ایک یعنی حضرت ابوبکر صدیق۔
۷؎یعنی علم و ایمان یمن کا پیارا ہے کیوں نہ ہو کہ وہ علاقہ حجاز سے متصل داہنی طرف واقع اس لیے اسے یمن کہتے ہیں،یمین سے مشتق ہے وہ عشاق رسول کا علاقہ ہے۔چنانچہ حضرت اویس قرنی یمن ہی کے ہیں رضی الله عنہ،ابو موسیٰ اشعری یمن کے ہیں بلکہ حضرات انصار بھی اصل میں یمن ہی کے باشندے ہیں بعد میں مدینہ میں بسے۔حدیث شریف میں ہےانی لاجدنفس الرحمن من جانب الیمن،فتوحات مکہ شریف میں اس حدیث کے یہ ہی معنی بیان کیے۔(اشعۃ اللمعات، مرقات)
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5969