Main Icon

باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5968

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيْدِ الْخُدْرِيِّ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرْضِهٖ الَّذِي مَاتَ فِيهِ وَنَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ عَاصِبًا رَأْسَهٗ بِخِرْقَةٍ حَتّٰى أَهْوٰى نَحْوَ الْمِنْبَرِ فَاسْتَوٰى عَلَيْهِ وَاتَّبَعْنَاهُ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ إِنِّي؟ لَأَنْظُرُ إِلَى الحَوْضِ مِنْ مَقَامِي هٰذَا » ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ عَبْدًا عُرِضَتْ عَلَيْهِ الدُّنْيَا وَزِينَتُهَا فَاخْتَارَ الْآخِرَةَ» قَالَ: فَلَمْ يَفْطِنْ لَهَا أَحَدٌ غَيْرُ أَبِي بَكْرٍ فَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ فَبَكٰى ثُمَّ قَالَ: بَلْ نَفْدِيكَ بِآبَائِنَا وأُمَّهَاتِنَا وَأَنْفُسِنَا وَأَمْوَالِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: ثُمَّ هَبَطَ فَمَا قَامَ عَلَيْهِ حَتَّى السَّاعَةِ. رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ

وعن أبي سعيد الخدري قال: خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم في مرضه الذي مات فيه ونحن في المسجد عاصبا رأسه بخرقة حتى أهوى نحو المنبر فاستوى عليه واتبعناه قال: «والذي نفسي بيده إني؟ لأنظر إلى الحوض من مقامي هذا » ثم قال: «إن عبدا عرضت عليه الدنيا وزينتها فاختار الآخرة» قال: فلم يفطن لها أحد غير أبي بكر فذرفت عيناه فبكى ثم قال: بل نفديك بآبائنا وأمهاتنا وأنفسنا وأموالنا يا رسول الله، قال: ثم هبط فما قام عليه حتى الساعة. رواه الدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم اپنے اس مرض میں ہمارے سامنے آئے جس میں آپ کی وفات ہوئی ہم لوگ مسجد میں تھے آپ ایک کپڑے سے پٹی باندھے آئے ۱؎حتی کہ منبر کیطرف تشریف لے گئے اس پر جلوہ گر ہوئے ہم حضور کے پیچھے ہوگئے ۲؎فرمایا اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ میں اپنی اس جگہ سے حوض کو دیکھ رہا ہوں۳؎پھر فرمایا کہ ایک بندہ پر دنیا اور اس کی زینت پیش کی گئی تو اس نے آخرت کو اختیار کرلیا ۴؎فرماتے ہیں کہ یہ بات سواء ابو بکر کے کوئی نہیں سمجھا تو آپ کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں پھر عرض کیا بلکہ ہم آپ پر اپنے ماں باپ اپنی جانیں اپنے مال فدا کریں گے یارسول الله، فرماتے ہیں کہ پھر آپ اترے پھر منبر پر اس گھڑی تک نہ کھڑے ہوئے ۵؎(دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎حضور انور کو بخار اور درد سرتھا انہیں بیماریوں میں وفات شریف واقع ہوئی درد سر کی وجہ سے پٹی باندھی تھی۔معلوم ہوا کہ درد میں پٹی وغیرہ باندھنا توکل کے خلاف نہیں نہ اس میں رب تعالٰی کی شکایت ہے یہ تو ایک قسم کا علاج ہے۔
۲
؎یعنی ہم سب مسجد نبوی میں متفرق طور پر بیٹھے ہوئے تھے حضور انور کے پیچھے پیچھے ہولئے اور منبر شریف کے قریب جمع ہو کر بیٹھ گئے تاکہ با آسانی کلام مبارک سن سکیں۔سبحان الله!کیا نظارہ ہوگا جیسے شمع کے اردگرد پروانے جمع ہیں۔
۳
؎اس فرمان عالی کے متعلق ابھی کچھ پہلے عرض کیا جاچکا ہے۔حضور انور کامنبر شریف حوض کوثر کے بالمقابل ہے،حضور نے منبر پر کھڑے ہوکر خبر دی کہ میں اپنا حوض کوثر یہاں سے دیکھ رہا ہوں۔اس حدیث سے حضور کی نظر کی وسعت ثابت ہوئی۔ہماری نظر میں دور بین لگادی جاوے تو میلوں تک دیکھ لیتی ہے تو جن کی آنکھ پر نبوت کی دور بین ہو وہ کہاں تک دیکھیں گے،پھر یہ نہ فرمایا کہ اس کے بعد میں حوض نہ دیکھوں گا دیکھنے کا ثبوت تو ہے پھر چھپ جانے کا ثبوت نہیں۔
۴
؎یہاں اشعۃ اللمعات نے فرمایا کہ حضور انور کی خدمت میں جبریل امین نے حاضر ہوکر عرض کیا کہ رب تعالٰی فرماتا ہے کہ اگر آپ چاہیں تو دنیا میں رہیں،ہم دنیا کے خزانے آپ کو دے دیں اور یہاں کے پہاڑوں کو سونا چاندی بنادیں،ان آسائشوں سے آپ کا ثواب آخرت بالکل کم نہ ہوگا اگر آپ چاہیں تو ہمارے پاس تشریف لائیں،حضور انور کا ایک غلام اس وقت موجود تھا اس نے عرض کیا ابھی کچھ عرصہ حضور ہمارے پاس رہیں تاکہ ہم حضور سے نفع حاصل کرلیں آپ کے سایہ میں رہیں تب حضور انور نے جناب جبریل کی طرف بطور مشورہ نظر کی اور فرمایا کہ ہم اب وہاں ہی جانا چاہتے ہیں۔(اشعۃ اللمعات)
۵
؎ساعۃسے مراد یہ گھڑی ہے یا قیامت یعنی حضور اس گھڑی تک یا قیامت تک پھر منبر پرتشریف نہیں لائے بلکہ وفات واقع ہوگئی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5968