Main Icon

باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5960

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْهَا قَالَتْ:سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول:«مَا مِنْ نَبِيٍّ يَمْرَضُ إِلَّا خُيِّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» .وَكَانَ فِي شَكْوَاهُ الَّذِي قُبِضَ أَخَذَتْهُ بُحَّةٌ شَدِيدَةٌ فَسَمِعْتُهٗ يَقُولُ:مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ. فَعَلِمْتُ أَنَّهٗ خُيِّرَ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعنها قالت:سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:«ما من نبي يمرض إلا خير بين الدنيا والآخرة» .وكان في شكواه الذي قبض أخذته بحة شديدة فسمعته يقول:مع الذين أنعمت عليهم من النبيين والصديقين والشهداء والصالحين. فعلمت أنه خير. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتی ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ نہیں بیمار ہوتے کوئی نبی مگر انہیں دنیا و آخرت کے درمیان اختیار دیا جاتا ہے ۱؎اور آپ اپنے اس مرض میں تھے جس میں وفات دیئے گئے تو آپ کو سخت خراٹے نے پکڑ لیا۲؎میں نے آپ کو کہتے سنا کہ ان لوگوں کے ساتھ جن پر تو نے انعام فرمایا یعنی انبیاء صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ۳؎تو میں نے جان لیا کہ آپ کو اختیار دے دیا گیا ۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ساری مخلوق کی موت اضطراری ہوتی ہے مگر حضرت انبیاءکرام کی وفات اختیاری کہ پہلے انہیں رب کی طرف سے اختیار دیا جاتا ہے کہ چاہیں تو دنیا ہی میں رہیں چاہیں تو ہمارے پاس آجاویں،جو کہتے ہیں کہ نبی ہماری طرح ہوتے ہیں وہ اس حدیث میں غور کریں،وہ حضرات زندگی و موت اور ان کے ہر شعبہ میں دوسروں سے ممتاز ہوتے ہیں۔
۲
؎بحۃ بکے پیشحکے شد سے بمعنی کھانسی یا خراٹہ یا غرغرہ یعنی گہری سانس جو تکلیف سے لی جاوے جسے اردو میں سلگی کہتے ہیں یعنی آخری سانس۔
۳
؎یعنی خدایا اب میں دنیا میں رہنا نہیں چاہتا میں تیرے ان مقبول بندوں کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں،یا الله ہم گنہگاروں کو بھی ان مقبولوں کی ہمراہی نصیب فرما؎گر محمد کا ساتھ ہوجائے پھر تو سمجھو نجات ہوجائے
۴
؎یعنی رب العالمین نے حضور انورصلی الله علیہ وسلم کو اختیار دیا اور حضورصلی الله علیہ وسلم نے ہم سے منہ موڑ کر ان حضرات کی ہمراہی قبول فرمالی،اب حضورصلی الله علیہ وسلم کی روانگی ہے حضورصلی الله علیہ وسلم کا یہ کلام رب کے فرمان کا جواب ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5960