Main Icon

باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5966

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا حُضِرَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي الْبَيْتِ رِجَالٌ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلُمُّوا أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ» . فَقَالَ عُمَرَ قَدْ غُلِبَ عَلَيْهِ الْوَجَعُ وَعِنْدَكُمُ الْقُرْآنُ حَسْبُكُمْ كِتَابُ اللّٰهِ فَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْبَيْتِ وَاخْتَصَمُوا فَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ: قَرِّبُوا يَكْتُبْ لَكُمْ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَمِنْهُم يَقُولُ مَا قَالَ عُمَرُ. فَلَمَّا أَكْثَرُوا اللَّغَطَ وَالِاخْتِلَافَ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُومُوا عَنِّي» . قَالَ عُبَيْدُ اللّٰهِ: فَكَانَ ابنُ عباسٍ يَقُولُ: إِنَّ الرَّزِيئَةَ كُلَّ الرَّزِيئَةِمَا حَالَ بَيْنَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيَّنَ أَنْ يَكْتُبَ لَهُمْ ذٰلِكَ الْكِتَابَ لِاخْتِلَافِهِمْ وَلَغَطِهِمْ وَفِي رِوَايَةِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي مُسْلِمِ الْأَحْوَلِ قَالَ اِبْنُ عَبَّاسٍ: يَوْمُ الْخَمِيسِ وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ؟ ثُمَّ بَكٰى حَتّٰى بَلَّ دَمْعُهُ الحَصٰى. قُلْتُ: يَابْنَ عَبَّاسٍ وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ؟ قَالَ: اشْتَدَّ بِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعُهٗ فَقَالَ: «اِئْتُونِي بِكَتِفٍ أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَا تَضِلُّوا بَعْدَهٗ أَبَدًا» . فَتَنَازَعُوا وَلَا يَنْبَغِي عِنْدَ نَبِيٍّ تَنَازُعٌ. فَقَالُوا: مَا شَأْنُهٗ أَهَجَرَ؟ اِسْتَفْهِمُوهُ فَذَهَبُوا يَرُدُّونَ عَلَيْهِ. فَقَالَ: «دَعُونِي ذَرُونِي فَالَّذِي أَنَا فِيهِ خَيْرٌ مِمَّا تَدْعُونَنِي إِلَيْهِ» . فَأَمَرَهُمْ بِثَلَاثٍ: فَقَالَ: «أَخْرِجُوا الْمُشْرِكِينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَأَجِيزُوا الْوَفْدَ بِنَحْوِ مَا كُنْتُ أُجِيزُهُمْ» . وَسَكَتَ عَنِ الثَّالِثَةِ أَوْ قَالَهَا فَنَسِيتُهَا قَالَ سُفْيَانُ: هٰذَامِنْ قَولِ سُلَيْمَانَ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن ابن عباس قال: لما حضر رسول الله صلى الله عليه وسلم وفي البيت رجال فيهم عمر بن الخطاب قال النبي صلى الله عليه وسلم: «هلموا أكتب لكم كتابا لن تضلوا بعده» . فقال عمر قد غلب عليه الوجع وعندكم القرآن حسبكم كتاب الله فاختلف أهل البيت واختصموا فمنهم من يقول: قربوا يكتب لكم رسول الله صلى الله عليه وسلم . ومنهم يقول ما قال عمر. فلما أكثروا اللغط والاختلاف قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «قوموا عني» . قال عبيد الله: فكان ابن عباس يقول: إن الرزيئة كل الرزيئةما حال بين رسول الله صلى الله عليه وسلم وبين أن يكتب لهم ذلك الكتاب لاختلافهم ولغطهم وفي رواية سليمان بن أبي مسلم الأحول قال ابن عباس: يوم الخميس وما يوم الخميس؟ ثم بكى حتى بل دمعه الحصى. قلت: يابن عباس وما يوم الخميس؟ قال: اشتد برسول الله صلى الله عليه وسلم وجعه فقال: «ائتوني بكتف أكتب لكم كتابا لا تضلوا بعده أبدا» . فتنازعوا ولا ينبغي عند نبي تنازع. فقالوا: ما شأنه أهجر؟ استفهموه فذهبوا يردون عليه. فقال: «دعوني ذروني فالذي أنا فيه خير مما تدعونني إليه» . فأمرهم بثلاث: فقال: «أخرجوا المشركين من جزيرة العرب وأجيزوا الوفد بنحو ما كنت أجيزهم» . وسكت عن الثالثة أو قالها فنسيتها قال سفيان: هذامن قول سليمان. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا وقت وفات آیا ۱؎اور گھر میں کچھ لوگ تھے جن میں حضرت عمر ابن خطاب بھی تھے ۲؎تو نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا لاؤ میں تمہارے لیے ایسی تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم کبھی نہ بہکو ۳؎تو حضرت عمر نے کہا کہ آپ پر تکلیف کا غلبہ ہے اور تمہارے پاس قرآن موجود ہے تم کو الله کی کتاب کافی ہے۴؎گھر والے اختلاف کر بیٹھے جھگڑنے لگے ۵؎بعض کہتے تھے کہ پیش کرو تاکہ تمہارے لیے رسول الله صلی الله علیہ وسلم تحریر لکھ دیں،بعض تھے جو وہ ہی کہتے تھے جو حضرت عمر نے کہا،پھر جب انہوں نے شور اور اختلاف زیادہ کیا ۶؎تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس سے اٹھ جاؤ ۷؎عبید الله کہتے ہیں ۸؎کہ حضرت ابن عباس کہتے تھے کہ پوری مصیبت وہ تھی جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم اور آپ کی تحریر فرمانے کے درمیان حائل ہوگئی ان کے اختلاف اور شور کی وجہ سے ۹؎اور سلیمان ابن ابی مسلم احول کی روایت میں ہے۱۰؎کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ ہائے جمعرات کا دن اور کیا ہی تھا جمعرات کا دن پھر آپ روئے حتی کہ آپ کے آنسو نے کنکر تر کردیئے میں نے کہا اے ۱۱؎ابن عباس جمعرات کا دن کا کیا ہے، فرمایا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم پر آپ کی بیماری سخت ہوگئی تو فرمایا کہ میرے پاس کندھے کی ہڈی لاؤ میں تمہارے لیے ایسی تحریر لکھ دوں کہ تم اس کے بعد کبھی بہکو گے نہیں مگر لوگ جھگڑ پڑے نبی کے پاس جھگڑا نہیں چاہیے ۱۲؎تو لوگ بولے کہ حضور کا خیال مبارک کیا ہے کیا آپ پریشان باتیں کررہے ہیں آپ سے پوچھ لو۱۳؎چنانچہ وہ آپ سے بار بار پوچھنے لگے۱۴؎تو فرمایا کہ مجھے چھوڑ دو جس میں میں مشغول ہوں وہ اس سے اچھا ہے جس کی طرف تم مجھے بلاتے ہو ۱۵؎پھر ان کو تین چیزوں کا حکم دیا ۱۶؎مشرکوں کو جزیرہ عرب سے نکالو ۱۷؎وفود کو ان کا حق دو جیساکہ انہیں ہم دیا کرتے تھے ۱۸؎اور تیسری سے خاموشی فرمائی یا حضور نے وہ بات کہی مگر میں بھول گیا ۱۹؎سفیان کہتے ہیں کہ یہ سلیمان کا قول ہے(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی زمانہ وفات قریب ہوا،یہ واقعہ جمعرات کے دن کا ہے اور وفات شریف دوشنبہ یعنی پیر کو ہے تو یہ واقعہ وفات سے پانچ دن پہلے کا ہے۔
۲
؎یہ تمام حضرات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیمار پرسی کرنے آئے تھے اسی جماعت میں حضرت ابن عباس،حضرت علی وغیرہم بھی تھے رضی الله عنہم۔
۳
؎خیال رہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم تین چیزوں سے مععصوم ہیں: گناہ سے خصوصًا جھوٹ سے،شرعی احکام بدلنے سے، شرعی حکم چھپانے سے اور مخلوق تک نہ پہنچانے سے حتی کہ جب حضور انور پر جادو ہوا تب بھی آپ کوئی عبادت کوئی حکم شرعی نہ بھولے اور نہ تبدیل فرماسکے لہذا آج جو حکم لکھنا چاہتے تھے وہ ہی تھا جو تندرستی شریف میں بیان کرچکے تھے کوئی نئی چیز نہ تھی۔اس میں گفتگو ہے کہ حضور انور اس وقت کیا لکھنا چاہتے تھے،بعض کے نزدیک نماز کی تاکید،لونڈی غلاموں سے اچھا سلوک،مہمانوں سے اچھا برتاؤ۔بعض کے نزدیک حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے لیے خلافت نامہ جس کا ذکر ایک بار حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ صدیقہ سے کیا بھی تھا کہ ابوبکر کو بلاؤ میں ان کے لئے خلافت لکھ دوں،پھر فرمایا چھوڑو کوئی ضرورت نہیں الله تعالٰی اور مسلمان ابوبکر کے ہوتے کسی کو خلیفہ نہ بنائیں گے،پھر عملی طور پر آپ کو خلیفہ بنا بھی دیا کہ اپنے مصلے پر امام بنا کر کھڑا کر دیا۔یہ امامت صغریٰ آپ کی امامت کبریٰ کی دلیل ہے جیسے کہ کسی بزرگ کا اپنے کسی خلیفہ کو دستار بندی کردینا،سجادہ پر بٹھا دینا۔شیعہ کہتے ہیں کہ حضرت علی کو خلافت لکھنا چاہتے تھے مگر اس کی کوئی دلیل نہیں،اگر یہ ارادہ ہوتا تو حضور کسی کی نہ مانتے ضرور لکھواتے،نیز ابھی وفات میں پانچ دن باقی تھے اس دوران میں فرمادیتے یا لکھوادیتے،نیز شیعہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت قطعی اور منصوص ہے کہ غدیر خم پر حضور انور نے انہیں اپنا خلیفہ مقرر کردیا تھا اس صورت میں شیعہ حضرات کی یہ توجیہ درست نہیں۔
۴
؎یہ حضرت عمر کی قوت اجتہاد ہے کہ آپ سمجھ گئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کایہ حکم شرعی نہیں ہے بلکہ مشورہ ہے اور حضور انور وہ ہی کوئی چیزلکھوائیں گے جو پہلے حضور نے ہم کو بتادی سمجھادی ہے محض کرم کریمانہ سے اس تکلیف کے باوجود لکھوانے کا ارادہ فرمارہے ہیں۔عرض کرو کہ ہم نے حضور سے سب کچھ سیکھ لیا ہے اب حضور اس تکلیف کی زحمت نہ فرمائیں لہذا یہ عرض حضور کے حکم کی مخالفت نہیں،رب تعالٰی نے فرشتوں کو ایک خلیفہ کے تقرر کا اعلان فرمایا تو فرشتوں نے اس پرسلمنانہیں کہا بلکہ اپنی رائے پیش کردی کہ ہم کو ہی خلافت دی جائے۔یہ امر الٰہی کی مخالفت نہ تھی بلکہ مشورہ میں رائے پیش کرنا تھی۔اس فرمان کا مقصد یہ بھی ہے کہ اے گروہ صحابہ تم کو قرآن مجید کافی ہے،حدیث شریف کی روشنی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سارا قرآن تم کو سمجھادیا ہے اس سے حدیث کا انکار مقصود نہیں۔
۵
؎اہلِ بیت سے مراد اس گھر میں موجود لوگ ہیں ازواج یا اولاد مراد نہیں۔ اختلاف سے مراد یہ ہے کہ بعض نے کہا کہ کاغذ اور دوات قلم لاؤ،بعض نے کہا کہ نہ لاؤ یعنی اختلاف رائے سے لڑنا بھڑنا مراد نہیں۔
۶
؎لغطوہ آواز جس کے الفاظ سمجھ میں نہ آئیں،جب چند شخص بیک وقت بولیں تو یہی حال ہوتا ہے۔خیال رہے کہ اس وقت ان لوگوں میں سے کوئی بھی شور نہیں مچا رہا تھا بلکہ چند ہلکی آوازیں مل کر شور بن گئیں جیساکہ عام طور پر دیکھا جاتا ہے یا یہاں بلند آواز سے بولنا ضرورۃً تھا بے ادبی کے طور پر نہ تھا جیسے حضور کے سامنے اذان یا اعلان بلند آواز سے کرنا لہذا صحابہ کرام کا یہ عمل اس آیت کے خلاف نہیں"لَا تَرْفَعُوۡۤا اَصْوٰتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ"۔یہ بھی خیال رہے کہ ان حضرات صحابہ کا یہ اختلاف اجتہادی اختلاف تھا جیسے حنفی شافعی کا اختلاف۔بعض صحابہ ظاہری الفاظ حدیث کی بنا پر کہہ رہے تھے کہ کاغذ قلم لاؤ، بعض صحابہ مقصد حدیث پہچان کر کہہ رہے تھے کہ نہ لاؤ حضور سب کچھ بتا چکے ہیں اب اس شدت مرض میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف لکھنے کی نہ دو۔اگر یہ کام گناہ ہوتا تو حضور ان سب سے توبہ کراتے بلکہ آیت قرآنیہ توبہ کے لیے آجاتی جیسے رب نے فرمایا:"اِنۡ تَتُوۡبَاۤ اِلَی اللهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوۡبُکُمَا"یہ ناممکن ہے کہ حضور کے سامنے گناہ ہو اور حضور توبہ سے باز رہنے کا حکم نہ دیں۔
۷
؎یعنی ہم کچھ نہیں لکھتے تم سب یہاں سے چلے جاؤ۔معلوم ہوا کہ حضرت عمر کی رائے کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پسند فرمایا اور کچھ لکھوایا نہیں۔قوموافرمانے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان حضرات کا یہ کوئی عمل ناجائز نہ تھا۔
۸
؎آپ عبدالله ابن عبدالله ابن عتبہ ابن مسعود ہزلی ہیں یعنی حضرت عبدالله ابن مسعود کے بھتیجے ہیں،تابعی ہیں،فقیہ ہیں،محدث ہیں،یہ حدیث آپ نے ابن عباس سےروایت کی ہے اس حدیث کے آپ ہی راوی ہیں۔
۹
؎حضرت ابن عباس کی رائے تھی کہ حضور انور ضرور لکھ دیں اس لیے آپ یہ فرما رہے ہیں۔خیال رہے کہ حضرت ابن عباس بھی اس عمل کو گناہ یا کفر قرار نہیں دیتے بلکہ صرف افسوس کررہے ہیں۔
۱۰
؎آپ ابن ابی نجیح کے ماموں ہیں،تابعی ہیں اس حدیث کی بعض راویات کے راوی ہیں۔
۱۱
؎اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ یہ واقعہ وفات شریف کے پانچ دن پہلے یعنی جمعرات کا ہے وفات شریف پیر کے دن ہے۔ آپ کا یہ گریہ و زاری حضور صلی الله علیہ وسلم کے فراق میں تھا،محبوب کی وفات کے بعد اس کی ہر بات یاد آتی ہے اور رونا آتا ہے۔ ایک بچہ کو حکیم نے پانی سے منع کردیا تھا،بچہ فوت ہوگیا تو ماں اس پانی بند کرنے کو یاد کرکے روتی تھی۔
۱۲
؎لاینبغیفرمانے سے معلوم ہورہا ہے کہ یہ واقعہ نہ کفر تھا نہ حرام نہ فسق صرف غیر مناسب تھا،پھر آپ کا یہ اعتراض دونوں جماعتوں پر ہے لاؤ کہنے والوں پر بھی نہ لاؤ کہنے والوں پربھی کیونکہ تنازع تو دونوں نے ہی کیا تھا۔
۱۳
؎ہجر کے معنی ہیں چھوڑنا اسی سے ہے ہجرت اور ہجران،اصطلاح میں اس لفظ کے چند معنی ہیں: ہذیان،فحش کام،خواب میں بڑبڑانا،بے ہوشی یا نشہ میں مخلوط کلام یعنی بہکی بہکی باتیں کرنا کہ ان سب میں انسان عقل چھوڑ کر باتیں کرتا ہے۔یہاں آخری معنی مراد ہیں یعنی حضور انور سے پوچھ لو کیا واقعی آپ کاغذ قلم منگا رہے ہیں یا غشی کی حالت میں یہ کلام فرمارہے ہیں۔ان حضرات کو تعجب یہ تھا کہ حضور انور نے حیات شریف میں ہم کو سارا دین بتادیا سمجھادیا اب کون سی بات باقی ہےجس پرہماری ہدایت موقوف ہے جواب لکھی جاوے گی شاید آپ مرض کی غشی میں یہ فرمارہے ہیں،بعض بے دین کہتے ہیں کہ ہجر بمعنی ہذیان (بکواس)ہے اور ان لوگوں نے حضور کی سخت توہین کرتے ہوئے یہ لفظ بولا مگر یہ غلط ہے مگر بولنے والے اور سن کر خاموش ہونے والے دونوں کافر ہوجاتے ہیں۔کیا حضرت علی و عباس اور ابن عباس آج کے علم دین لاہوری سے بھی گئے گزرے تھے جس نے توہین کرنے والے راجپال کو قتل کرکے پھانسی پالی۔یہ حضرات ایسی توہین سنتے رہے اور خاموش رہےنعوذ بالله!معلوم ہواکہ یہ لفظ توہین کا نہ تھا۔بعض شارحین نے فرمایا کہ ہجر میں سوال انکاری ہے اور روئے سخن انکار کرنے والوں سے ہے یعنی تم جو کاغذ لانے سے انکار کرتے ہو کیا حضور غشی میں یہ حکم دے رہے ہیں حالانکہ حضور کا ہر کلام وحی الٰہی ہوتا ہے سوتے میں ہو یا جاگتے میں حضور سے پھر پوچھ کر دیکھ لو۔
۱۴
؎بار بار پوچھنے کا منشا یہ تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کی نوعیت معلوم کریں آیا کہ یہ فرمان عالی حکم ہے یا مشورہ ہے یا غشی کی حالت کا کلام ہے،اگر اب بھی حکم دیں کہ کاغذ قلم دوات لاؤ تو یہ حکم ہے فورًا حاضر کردیا جاوے۔
۱۵
؎یعنی اس وقت میں متوجہ الی الله ہوں اس کے پاس جانے کی تیاری کر رہا ہوں تم لوگ مجھے اپنے اختلافات طے کرنے کی طرف بلاتے ہو تم جاؤ مجھے میرے حال پر چھوڑ دو۔اس جواب عالی سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ کاغذ قلم لانے کا فرمان حکم نہ تھا صرف مشورہ تھا ورنہ حضور انور فرماتے کہ ضرور لاؤ ہم ضرور لکھوائیں گے،پھرکسی کی کیا مجال تھی کہ کاغذ نہ لاتا یا لانے سے منع کرتا،حضور انور کو سارے عرب نے تبلیغ سے روکا آپ نہ رکے تو یہاں صرف ایک دو کے عرض کرنے سے کیسے رک سکتے تھے۔
۱۶
؎یہ ہی تین باتیں وہ تھیں جو حضور انور لکھوانا چاہتے تھے یہ تینوں باتیں پہلے بھی فرما چکے تھے اور اب بھی فرمادیں انہیں کی تحریر ہوتی۔
۱۷
؎اس فرمان عالی کی تحقیقباب اخراج الیھود من جزیرۃ العربمیں ہوچکی کہ عرب میں خصوصًا حجاج میں سواء اسلام کے اور کوئی دین نہیں رہنا چاہیے،شاہی محل میں دشمن نہیں رہا کرتے۔
۱۸
؎یعنی تا قیامت جو کفار اپنی قوم کے نمائندے بن کر اسلام قبول کرنے کے لیے یہاں آئیں یوں ہی جو مسلمان ہماری قبر انور کی زیارت کرنے یا علم دین سیکھنے یہاں آئیں ان کی خاطر مدارات کرو جیسے ہم کرتے تھے کیونکہ وہ ہمارے اور رب کے مہمان ہیں۔
۱۹
؎بعض شارحین نے فرمایا کہ وہ تیسری بات یہ تھی کہ اسامہ ابن زید کے لشکر کو تیار کرکے جہاد پر روانہ کردینا حضور انور اس لشکر کو تیار کررہے تھے کہ بیمار ہوگئے،بعض نے کہا کہ وہ تیسری بات یہ تھی کہ میری قبر کو بت نہ بنانا کہ اس کی پرستش کرو اس کی تحقیق اس مقام پر ہوچکی۔(مرقات،اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5966