Main Icon

باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5967

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ لِعُمَرَ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِنْطَلِقْ بِنَا إِلٰى أُمِّ أَيْمَنَ نَزُورُهَا كَمَا كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزُورُهَا فَلَمَّا اِنْتَهَيْنَا إِلَيْهَا بَكَتْ. فَقَالَا لَهَا: مَا يُبْكِيكِ؟ أَمَا تَعْلَمِينَ أَنَّ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَيْرٌ لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ: إِنِّي لَا أَبْكِي أَنِّي لَا أَعْلَمُ أَنَّ مَا عِنْدَ اللّٰهِ تَعَالٰى خَيْرٌ لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلٰكِنْ أَبْكِي أَنَّ الْوَحْيَ قَدِ انْقَطَعَ مِنَ السَّمَاءِ فَهَيَّجَتْهُمَا عَلَى البُكَاءِ فَجَعَلَا يَبْكِيَانِ مَعهَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أنس قال: قال أبو بكر لعمر بعد وفاة رسول الله صلى الله عليه وسلم: انطلق بنا إلى أم أيمن نزورها كما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يزورها فلما انتهينا إليها بكت. فقالا لها: ما يبكيك؟ أما تعلمين أن ما عند الله خير لرسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فقالت: إني لا أبكي أني لا أعلم أن ما عند الله تعالى خير لرسول الله صلى الله عليه وسلم ولكن أبكي أن الوحي قد انقطع من السماء فهيجتهما على البكاء فجعلا يبكيان معها. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر نے جناب عمر سے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے بعد فرمایا کہ ہم کو ام ایمن کے پاس لے چلو ۱؎ہم ان کی ملاقات کریں جیسے رسول الله صلی الله علیہ وسلم ان کی ملاقات فرماتے تھے ۲؎تو جب ہم ان تک پہنچے ۳؎تو وہ رونے لگیں ان سے ابوبکر صدیق نے کہا کہ آپ کو کیا چیز رلاتی ہےکیا آپ نہیں جانتی کہ الله کے پاس کی نعمتیں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے لیے بہتر ہیں ۴؎وہ بولیں کہ میں اس لیے نہیں روتی کہ میں یہ نہیں جانتی کہ الله کے پاس کی نعمتیں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے لیے بہتر ہیں مگر میں تو اس لیے روتی ہوں کہ آسمان سے وحی آنا بندہوگئی ۵؎انہوں نے ان دونوں کو بھی رونے پر بھڑکا دیا وہ دونوں بھی ان کے ساتھ رونے لگے ۶؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎جناب ام ایمن کا نام شریف برکت ہے حبشہ کی تھیں،حضرت عبدالله یعنی حضور کے والد ماجد کی لونڈی تھیں،حضور کی پرورش انہوں نے بھی کی ہے،حضور انورنے آپ کا نکاح حضرت زید ابن حارثہ سے کردیا تھا،انہیں کے بطن شریف سے حضرت اسامہ ابن زید پیدا ہوئے،آپ جہادوں میں جاتیں تھیں زخمیوں کی مرہم پٹی غازیوں کی خدمت کرتی تھیں،حضرت عمر فاروق کی وفات سے بیس دن بعد آپ کی وفات ہوئی،حضرت زید ابن حارثہ حضرت خدیجۃ الکبریٰ کے غلام بن گئے تھے،حضور انور نے جناب خدیجہ سے انہیں مانگ لیا اور آزاد کرکے اپنا منہ بولا بیٹا بنالیا۔ (مرقات)
۲
؎یعنی حضور انور صلی الله علیہ وسلم جناب ام ایمن کی ملاقات کے لیے انکے گھر تشریف لے جایا کرتے تھے چلو ہم بھی اس سنت پر عمل کریں ام ایمن کی زیارت کریں۔معلوم ہوا کہ بزرگوں کی وفات کے بعد ان کے معمولات قائم رکھنا،ان کے دوستوں سے محبت کرنا،بلکہ جن کی وہ حضرات ملاقات کرتے ہوں ان سے ملاقات کے لیے جانا سنتِ صحابہ ہے۔
۳
؎مشکوۃ کے عام نسخوں میںفلما انتھیناہے جمع متکلم سے تو اس میں حضرت انس بھی شامل ہیں یعنی حضرت انس کہتے ہیں کہ جب ہم تینوں یعنی حضرت ابوبکر صدیق اور عمرفاروق ام ایمن کے پاس پہنچے۔بعض نسخوں میں ہے۔فلما انتھیاتثنیہ مذکر غائب ہے یعنی جب وہ دونوں صدیق و فاروق ام ایمن کے پاس پہنچے بہرحال ان بزرگوں کو دیکھ کر ام ایمن کو حضور صلی الله علیہ وسلم یاد آگئے کیونکہ یہ دونوں حضرات حضور کے ساتھی اور خاص محبوب دوست تھے۔بعد وفات مرحوم کی چیزیں،اس کی اولاد،اس کے دوست دیکھ کر مرحوم یاد آتا ہے اور لوگ رونے لگتے ہیں یہ رونا ایسا ہی تھا۔
۴
؎یعنی جہاں حضور اب ہیں وہ جگہ دنیا سے بہتر ہے کہ یہاں تکالیف تھیں وہاں آرام و راحت ہے،وہاں ہر وقت اپنے رب سے قرب خاص حاصل ہے پھر تم اتنی بے قرار ہوکر روتی کیوں ہو۔
۵
؎یعنی میرا رونا اپنی محرومی پر ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی وجہ سے ہم الله کی بہت نعمتوں سے محروم ہوگئے، آیاتِ قرآنیہ کا آنا بند ہوگیا،احادیث نبویہ کا سلسلہ ختم ہوگیا،مسلمانوں کا صحابی بننا ختم ہوگیا،حضور سب کچھ ہم کو دے گئے مگر یہ چیزیں اپنے ساتھ لے گئے؎حیف در چشم زدن صحبت یار آخر شد روئے گل سیر نہ دیدیم بہار آخرشد
اب حضرت جبریل کیوں آئیں گے اور کہاں آئیں گے۔
۶
؎یعنی یہ سن کر حضرت صدیق و فاروق اعظم بھی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے یہ رونا تو امت کو قیامت تک رہے گا کہ کسے دیکھ کر صحابی بنیں گے،کس کے منہ سے آیات و احادیث کے پھول جھڑتے ہوئے دیکھیں،حضرت بلال یہ ہی سوچ کر مدینہ چھوڑکر دمشق چلے گئے کہ اب میں کس کی طرف اشارہ کرکے اذان کہا کروں گا۔حالت یہ ہو گئی تھی کہ؎قافلہ سالار سفر کر گیا قافلہ کو زیر و زبر کر گیا

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5967