Main Icon

باب: مکہ کا داخلہ اور طواف - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2561

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ نَافِعٍ قَالَ: إِنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ لَا يَقْدِمُ مَكَّةَ إِلَّا بَاتَ بِذِي طُوًى حَتّٰى يُصْبِحَ وَيَغْتَسِلَ وَيُصَلِّيَ فَيَدْخُلَ مَكَّةَ نَهَارًا وَإِذَا نَفَرَ مِنْهَا مَرَّ بِذِي طُوًى وَبَاتَ بِهَا حَتّٰى يُصْبِحَ وَيَذْكُرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذٰلِكَ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن نافع قال: إن ابن عمر كان لا يقدم مكة إلا بات بذي طوى حتى يصبح ويغتسل ويصلي فيدخل مكة نهارا وإذا نفر منها مر بذي طوى وبات بها حتى يصبح ويذكر أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يفعل ذلك(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت نافع سے فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر کبھی مکہ معظمہ داخل نہ ہوتے مگر پہلے صبح تک ذی طُویٰ میں رات گزار لیتے غسل کرتے،نماز پڑھتے پھر دن میں مکہ معظمہ میں داخل ہوتے ۱؎اور جب مکہ سے واپس ہوتے تو ذی طویٰ پرگزرتے وہاں رات گزارتے حتی کہ صبح ہوجاتی اور فرماتے تھے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم یہ عمل کرتے تھے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎ذی طویٰ مکہ معظمہ سے قریب مدینہ کے راہ ایک چھوٹی سی بستی یا کنواں کا نام ہے،نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم وہاں رات میں پہنچ گئے تھے،رات وہاں گزارکر بعد نماز فجر وہاں سے چلے تھے اور دن میں مکہ معظمہ داخل ہوئے تھے، حضرت ابن عمر اس سنت پر عامل رہے۔ علماء فرماتے ہیں کہ مکہ معظمہ دن میں داخل ہونا کہ کعبہ معظمہ پر پہلی نظر ہیبت و جلال سے پڑے اور دعا خوب دل سے مانگی جائے،اول نظر پر دعا بہت قبول ہوتی ہے،کعبہ کی تجلی دن میں خوب نظر آتی ہے۔بہتر یہ ہے کہ چاشت کے وقت داخل ہو۔(اشعہ)غسل کر کے مکہ معظمہ میں داخل ہونا بہت بہتر ہے۔(مرقات)نسائی شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم حج کےموقعہ پر دن میں مکہ معظمہ تشریف لائے اور عمرہ کے وقت رات میں۔سیدنا عبداللّٰه ابن عمر رات کے وقت مکہ معظمہ میں داخل ہونے سے منع فرماتے تاکہ حجاج کا سامان گڑبڑ نہ ہو۔ابن حبان میں حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ انبیاءکرام مکہ معظمہ میں پیدل برہنہ پا داخل ہوتے تھے،عبداللّٰه ابن عمر سے روایت ہے کہ حج کعبہ سات لاکھ بنی اسرائیل نے کیا جو مقام تنعیم سے ننگے پاؤں ہوجاتے تھے۔(مرقات)
۲
؎واپسی پر ذی طویٰ میں رات گزارنا اس لیے تھا کہ تمام صحابہ جمع ہوجائیں اور اب یہاں سے سفر مدینہ کی تیاری کرلی جائے غرضکہ آتے جاتے دونوں بار ذی طویٰ میں قیام فرمایا مگر مختلف مصلحتوں سے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2561