Main Icon

باب: مکہ کا داخلہ اور طواف - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2576

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الطَّوَافُ حَوْلَ الْبَيْتِ مِثْلُ الصَّلَاةِ إِلَّا أَنَّكُمْ تَتَكَلَّمُونَ فِيهِ فَمَنْ تَكَلَّمَ فِيهِ فَلَا يَتَكَلَّمَنَّ إِلَّا بِخَيْرٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَذَكَرَ التِّرْمِذِيُّ جَمَاعَةً وَقَفُوهُ عَلٰى ابْنِ عَبَّاسٍ.

وعن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «الطواف حول البيت مثل الصلاة إلا أنكم تتكلمون فيه فمن تكلم فيه فلا يتكلمن إلا بخير» . رواه الترمذي والنسائي والدارمي وذكر الترمذي جماعة وقفوه على ابن عباس.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا بیت اللّٰه کے گرد طواف نماز کی طرح ہے ۱؎بجز اس کے کہ تم اس میں بات کرسکتے ہو تو جو طواف میں کلام کرے تو اچھا ہی کلام کرے۲؎(ترمذی،نسائی،دارمی)اور ترمذی نے اس جماعت کا ذکر کیا جنہوں نے اسے ابن عباس پر موقوف کیا۔

شرح حدیث

۱∞؎طواف بھی نماز کی طرح بہترین عبادت ہے۔علماء فرماتے ہیں کہ مکہ والوں کے لیے نماز طواف سے افضل ہے اور باہر والوں کے لیے طواف نماز سے افضل کہ انہیں اس خاص زمانہ ہی میں طواف میسر ہوتا ہے ۔(اشعہ)
۲
؎یعنی طواف کی حالت میں دنیاوی کلام بھی جائز ہے لیکن جائز کلام کر لے ناجائز باتیں،غیبت،جھوٹ وغیرہ نہ کرے۔اس حدیث کی بناء پر بعض اماموں نے طواف میں وضو فرض مانا کہ نماز میں وضو فرض ہے اور طواف نماز کی طرح ہے لہذا اس میں بھی وضو فرض ہو، امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کے ہاں وضو فرض نہیں۔اولًا تو اس لیے کہ یہ حدیث ظنی ہے اور ظنیات سے فرضیت ثابت نہیں ہوتی۔دوسرے اس لیے کہ کپڑوں کی پاکی،کعبہ کو منہ، قرأت قرآن،رکوع سجود وغیرہ ان اماموں کے ہاں بھی طواف میں فرض نہیں، حالانکہ یہ چیزیں نماز میں فرض ہیں۔ معلوم ہواکہ طواف کو نماز سے صرف عبادت ہونےمیں تشبیہ دی گئی ہے،نہ کہ شرائط و ارکان کے اشتراط میں۔(اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2576