Main Icon

باب: مکہ کا داخلہ اور طواف - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2589

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ يُقَبِّلُ الْحَجَرَ، وَيَقُولُ:وَإِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ مَا تَنْفَعُ وَلَا تَضُرُّ وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عابس بن ربيعة قال: رأيت عمر يقبل الحجر، ويقول:وإني لأعلم أنك حجر ما تنفع ولا تضر ولولا أني رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقبلك ما قبلت. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عابس ابن ربیعہ سے فرماتے ہیں میں نے حضرت عمر کو دیکھا کہ آپ سنگِ اسود چومتے تھے اور کہتے تھے میں جانتا ہوں تو پتھر ہے نہ نفع دے نہ نقصان ۱؎اگر میں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو تجھے چومتے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے نہ چومتا ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اے سنگ اسود میں تجھے پوجتا نہیں بلکہ چومتا ہوں،تجھے عبادت کا بوسہ نہیں دیتا بلکہ تعظیم کا بوسہ دیتا ہوں کیونکہ عبادت اس اللّٰه کی ہے جو بذات خود نفع نقصان کا مالک ہے یہ اس لیے فرمایا کہ عہد فاروقی کے نو مسلم لوگ جواب تک پتھر پوجتے تھے وہ اس تعظیم کو پتھر کی عبادت نہ سمجھ لیں۔مرقات میں ہے کہ یہاں نفع نقصان سے مراد بالذات نفع پہنچانا ہے ورنہ اسود بحکم پروردگار بہت نافع ہے کہ اس کا چومنا عبادت اور باعث ثواب ہے اور ابھی کچھ پہلے عبداللّٰہ ابن عباس کی روایت گزر چکی کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا قیامت میں اس کی آنکھیں بھی ہوں گی اور زبان بھی،اپنے اخلاص سے چومنے والوں کے ایمان کی گواہی دے گا۔
۲
؎یعنی تجھے چومنا ایک تعبدی چیز ہے اور حضور انور کی اتباع میں ہے اس جگہ ملا علی قاری نے مرقاۃ میں اور شیخ عبدالحق نے اشعۃ اللمعات میں،مولانا عبدالحَی لکھنوی نے فدایۃ الھدایہ اور ابن حمام نے بروایت حاکم فرمایا کہ فاروق اعظم کے اس فرمان پر حضرت علی مرتضیٰ نے فرمایا اے امیر المؤمنین یقینًا سنگ اسود مفید بھی ہے اور مضر بھی،رب العالمین نے تمام روحوں سے جو اپنی وحدانیت کا اقرار لیا تھا وہ اقرار نامہ اسی پتھر میں محفوظ ہے اور یہ قیامت میں اس طرح آئے گا کہ اس کی آنکھیں و ہونٹ ہوں گے،مخلصین کی گواہی دے گا،یہ اللّٰه کا امین ہے تو حضرت عمر نے فرمایا کہ ابوالحسن جس زمین میں تم نہ ہو مجھے خدا و ہاں نہ رکھے۔مرقات نے فرمایا کہ حدیث بشرط شیخین نہیں ہے کیونکہ اس کی اسناد میں ابو ہارون عبدی ہیں جن سے مسلم و بخاری حدیث نہیں لیتے(یعنی حدیث صحیح ہے اگرچہ بشرط شیخین نہیں)اسی جگہ مرقات نے فرمایا مستحب یہ ہے کہ سنگ اسود کو چومنے کے بعد اس پر پیشانی رکھ کر سجدہ بھی کرےاور ابن حمام نے فرمایا کہ ابن ماجہ میں بروایت حضرت ابن عمر ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے سنگِ اسود پر ہونٹ مبارک رکھے اور بہت دیر تک روتے رہے پھر فاروق اعظم سے فرمایا کہ اے عمر اس جگہ آنسو بہائے جاتے ہیں۔ (مرقات)فقیر حقیر احمد یار کہتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے اس زمانہ کے جہلا کا انتظام فرماتے ہوئے سنگ اسود سے یہ فرمایا اور حضرت علی مرتضٰی نے قیامت تک کے وہابیوں کا انتظام فرماتے ہوئے اس کے یہ فضائل بیان فرمائے دونوں بزرگوں کے کلام برحق ہیں اور مسلمانوں کو مفید۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2589