Main Icon

باب: مکہ کا داخلہ اور طواف - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2575

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَقْبَلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ مَكَّةَ فَأَقْبَلَ إِلَى الْحَجَرِ فَاسْتَلَمَهٗ ثُمَّ طَافَ بِالبَيْتِ ثُمَّ أَتٰى الصَّفَا فَعَلَاهُ حَتّٰى يَنْظُرَ إِلَى الْبَيْتِ فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَجَعَلَ يَذْكُرُ اللّٰهَ مَا شَآءَ وَيَدْعُو. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن أبي هريرة قال: أقبل رسول الله صلى الله عليه وسلم فدخل مكة فأقبل إلى الحجر فاستلمه ثم طاف بالبيت ثم أتى الصفا فعلاه حتى ينظر إلى البيت فرفع يديه فجعل يذكر الله ما شاء ويدعو. رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضر ت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ وسلم تشریف لائے تو مکہ معظمہ میں داخل ہوئے،حجر اسود کے سامنے آئے اسے چوما پھر بیت اللّٰه کا طواف کیا پھرصفا پر تشریف لائے ۱؎تو اس پر اتنا چڑھے کہ بیت اللّٰه نظر آگیا تو اپنے ہاتھ اٹھائے تو اس قدر اللّٰه کا ذکر و دعا کرتے رہے جتنا رب نے چاہا ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یہ واقعہ یا تو حجۃ الوداع کا ہے یا کسی عمرہ کا اور صفا کی طرف جانا طواف اور طواف کی نماز ادا کرکے ہے۔
۲
؎اس زمانہ میں صفا پر بہت اوپر چڑھ کر کعبہ نظر آتا تھا،اب تو زمین پر ہی نظر آجاتا ہے کہ زمین بہت اونچی ہوچکی ہے اور مروہ پر بالکل نظر نہیں آتا مگر ادائے سنت کے لیے کچھ چڑھ جانا چاہیے۔بہتر یہ ہے کہ وہاں جو دل چاہے دعا مانگے کوئی خاص مقرر نہ کرے کہ اس مقرر کرنے میں دل میں خشوع نہیں پیدا ہوتا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2575