Main Icon

باب: مکہ کا داخلہ اور طواف - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2588

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: شَكَوْتُ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَشْتَكِي. فَقَالَ: «طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَ أَنْتِ رَاكِبَةٌ» فَطُفْتُ وَرَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلٰى جَنْبِ الْبَيْتِ يَقْرَأُ بِـ (وَالطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ) (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أم سلمة قالت: شكوت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم أني أشتكي. فقال: «طوفي من وراء الناس و أنت راكبة» فطفت ورسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي إلى جنب البيت يقرأ بـ (والطور وكتاب مسطور) (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں کہ میں نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں عرض کیا کہ میں بیمار ہوں تو فرمایا کہ تم لوگوں کے پیچھے سے سوار ہو کر طواف کرلو ۱؎تو میں نے طواف کیا جب کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کعبہ سے متصل نماز پڑھ رہے تھے اور سورۂوَالطُّور وَ کتابٍ مَّسْطُورپڑھ رہے تھے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎بیماری سے وہ مرض مراد ہے جس میں چلنا پھرنا اور طواف دشوار ہوجائے اور سواری سے ڈولی پر سواری مراد ہے جسے لوگ اپنے کندھوں پر اٹھا کر مریض کو طواف کرادیں نہ کہ جانور پرسواری،جانور پر طواف کرنا حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خصوصیات سے ہے ہم کو حرم شریف میں جانور لے جانا جائز نہیں۔لوگوں کے پیچھے کی قید اس زمانہ کے لحاظ سے ہے کہ اس وقت مسجد حرام اتنی ہی بڑی تھی جتنا اب مطاف ہے(طواف کی جگہ)اب جب کہ مسجد چوطرفہ بہت دور تک پھیل گئی ہے تو صرف جماعت کے وقت مطاف میں نماز ہوتی ہے اس کے بعد پورا مطاف طواف والوں کے لیے خالی کردیا جاتا ہے اور وہ لوگ باقی حصوں میں نماز پڑھتے رہتے ہیں،وہاں نمازی کے آگے سے گزرنا جائز ہے۔
۲
؎یہ نماز فجر تھی،چونکہ حضرت ام سلمہ فجر پڑھ چکی تھیں اور بعد فجر نفل جائز نہیں اس لیے آپ اس وقت طواف کرتی ہیں۔غالب یہ ہے کہ حضور انور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے دونوں رکعتوں میں سورتوالطورپڑھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2588