Main Icon

باب: مکہ کا داخلہ اور طواف - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2583

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ قُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمَّارٍ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْعٰى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ عَلٰى لَا ضَرْبٌ، وَلَا طَرْدٌ، وَلَا إِلَيْكَ إِلَيْكَ"، رَوَاهُ فِي "شَرْح السُّنَّةِ".

وعن قدامة بن عبد الله بن عمار قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يسعى بين الصفا والمروة على لا ضرب، ولا طرد، ولا إليك إليك"، رواه في "شرح السنة".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت قدامہ ابن عبداللّٰهابن عمار سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کو صفا مروہ کے درمیان اونٹ پرسعی کرتے دیکھا ۲؎جس میں نہ اونٹ کا مارنا پیٹنا تھا نہ لوگوں کو ہٹانا نہ ہٹو بچو فرمانا۳؎(شرح سنہ)

شرح حدیث

۱∞؎آپ قدیم الاسلام صحابی ہیں،ضعفاء مکہ معظمہ سے تھے اس لیے وہاں سے ہجرت نہ کرسکے۔(اشعہ)
۲
؎یہ سعی حجۃ الوداع کی سعی نہیں بلکہ کسی عمرہ کی سعی ہے اور حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کا سواری پرسعی کرنا کسی سخت مجبوری یا بیماری کی وجہ سے ہے لہذا یہ حدیث گزشتہ اس حدیث کے خلاف نہیں کہ حضور انور کا تہبند شریف زیادہ تیز دوڑنے کی وجہ سے گھوم رہا تھا کہ یہ واقعہ حجۃ الوداع کا ہے۔
۳
؎اس میں ان امراء و سلاطین پرطعن ہے جو سعی میں راستہ خالی کراتے تھے یا ہٹو بچو کہتے تھے،چاہیے یہ کہ امیر و فقیر ایک ساتھ سعی کر یں،وہاں ہٹو بچو کیسی،موت،نماز،حج و عمرہ دنیاوی فرق مٹاتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2583