Main Icon

باب: مکہ کا داخلہ اور طواف - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2580

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُزَاحِمُ عَلَى الرُّكْنَيْنِ زِحَامًا مَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُزَاحِمُ عَلَيْهِ قَالَ: إِنْ أَفْعَلْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ مَسْحَهُمَا كَفَّارَةٌ لِلْخَطَايَا» وَسَمِعْتُهٗ يَقُولُ: «مَنْ طَافَ بِهٰذَا الْبَيْتِ أُسْبُوعًا فَأَحْصَاهُ كَانَ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ» . وَسَمِعْتُهٗ يَقُولُ: «لَا يَضَعُ قَدَمًا وَلَا يَرْفَعُ أُخْرٰى إِلَّا أَحَطَّ اللّٰهُ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً وَكَتَبَ لَهٗ بِهَا حَسَنَةً » . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن عبيد بن عمير أن ابن عمر كان يزاحم على الركنين زحاما ما رأيت أحدا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم يزاحم عليه قال: إن أفعل فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إن مسحهما كفارة للخطايا» وسمعته يقول: «من طاف بهذا البيت أسبوعا فأحصاه كان كعتق رقبة» . وسمعته يقول: «لا يضع قدما ولا يرفع أخرى إلا أحط الله عنه بها خطيئة وكتب له بها حسنة » . رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبید ابن عمیر سے ۱؎کہ حضرت ابن عمر دو رکنوں میں اس قدر بھیڑ میں گھستے ۲؎کہ میں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے صحابہ میں سے کسی کو وہاں اس قدر گھستے نہ دیکھا ۳؎فرماتے ہیں کہ اگر میں یہ کرتا ہوں تو درست ہے کیونکہ میں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ ان کا چھونا گناہوں کا کفارہ ہے ۴؎اور میں آپ کو فرماتے سنا کہ جو اس بیت اللّٰه کا ایک ہفتہ نہایت حفاظت و احتیاط سے طواف کرے ۵؎تو غلام آزاد کرنے کی طرح ہوگا اور میں نے آپ کو فرماتے سنا کہ طواف کرنے والا ایک قدم نہیں رکھتا اور دوسرا نہیں اٹھاتا مگر رب تعالٰی ان کی برکت سے ایک گناہ مٹاتا ہے اور ایک نیکی لکھتا ہے ۶؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎∞آپ جلیل القدر تابعین سے ہیں،حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے زمانہ پاک میں پیدا ہوئے تھے مگر زیارت نہ کر سکے،آپ کی کنیت ابو عاصم ہے،قبیلہ بنی لیث سے ہیں،حجازی ہیں،مکہ معظمہ کے قاضی رہے،حضرت ابن عمر کی وفات سے کچھ پہلے ہی وفات پاگئے۔
۲∞
؎∞یعنی ہر طواف کے اول و آخر میں حضرت ابن عمر سنگ اسود و یمانی چومنے کی بہت کوشش کرتے تھے بھیڑ میں گھس کر چومتے تھے مگر اس طرح کہ کسی کو آپ سے ایذاء نہ ہو کہ وہاں ایذاء دینا ممنوع ہے۔
۳∞
؎∞حتی کہ کبھی حضرت ابن عمر کی ناک شریف اس بھیڑ میں زخمی ہوجاتی تھی دیگر صحابہ کرام اس ایذاء کو دیکھ کر بھیڑ میں نہ گھستے تھے بلکہ اشارہ سے چوم لیتے تھے آج کل ان صحابی کی سنت پرعمل کرنا چاہیے۔اگر چومنے کا شوق ہو تو رات کے آخری حصہ میں یا دوپہری میں طواف کرلے ان اوقات میں آسانی سے بوسہ نصیب ہوجاتا ہے،فقیر کا تجربہ ہے۔
۴∞
؎∞گناہ صغیرہ کا نہ کہ حقوق العباد کا،بعض لٹیرے بدّو حجاج کو قتل،ان کا مال لوٹ کر،سنگ اسود چوم جاتے،طواف کر جاتے تھے اور کہتے یہ تھے کہ جو ہم کر آئے تھے وہ معاف ہوگیا یہ ان کی جہالت و حماقت تھی،اب تو وہاں بہت امن ہے۔
۵∞
؎∞اس طرح کہ مسلسل ایک ہفتہ طواف کرے کوئی دن ناغہ نہ ہو اور طواف کی تمام سنتیں و مستحبات ادا کرے یہ دونوں چیزیں ∞احصاہ∞سے ثابت ہوئیں۔
۶∞
؎∞اس طرح کہ ایک قدم رکھنے پرگناہ کی معافی دوسرا قدم اٹھانے پر بلندی درجہ میسر ہوتی ہے اور بے گناہ آدمی کو دونوں قدموں پر بلندی درجات ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2580