Main Icon

باب: مکہ کا داخلہ اور طواف - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2578

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَجَرِ: «وَاللّٰهِ لَيَبْعَثَنَّهُ اللّٰهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَهٗ عَيْنَانِ يُبْصِرُ بِهِمَا وَلِسَانٌ يَنْطِقُ بِهٖ يَشْهَدُ عَلٰى مَنِ اسْتَلَمَهٗ بِحَقٍّ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْن مَاجَه والدَّارِمِيُّ

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم في الحجر: «والله ليبعثنه الله يوم القيامة له عينان يبصر بهما ولسان ينطق به يشهد على من استلمه بحق» . رواه الترمذي وابن ماجه والدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے حجر کے متعلق فرمایا رب کی قسم اللّٰه اسے قیامت کے دن ایسے اٹھائے گا کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے وہ دیکھتا ہوگا اور ایک زبان ہوگی جس سے بولتا ہوگا حق سے چومنے والوں کي گواہی دے گا ۱؎(ترمذی،ابن ماجہ،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎حدیث بالکل ظاہر ہےکسی تاویل و توجیہ کی ضرورت نہیں،قیامت میں قرآن،ہمارے نیک اعمال وغیرہ تمام کی شکلیں ہوں گی اور سب کلام کریں گے بلکہ ہمارے اعضاء بھی بولیں گے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَ تُكَلِّمُنَاۤ اَیۡدِیۡھِمْ وَ تَشْھَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوۡا یَکْسِبُوۡنَ"۔جو رب تعالٰی ان چیزوں کو گویائی بخش سکتا ہے وہ سنگ اسود کو بھی گویائی،آنکھ وغیرہ بخش سکتا ہے۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ سنگ اسود حاجیوں کی شفاعت کرے گا۔دوسرے یہ کہ سنگ اسود بحکم الٰہی نافعی ہے۔تیسرے یہ کہ سنگ اسود کا چومنا مفید ہے،قیامت میں کام آئے گا۔چوتھے یہ کہ کروڑوں آدمیوں نے اسے چوما یہ ان سب کو جانتا پہنچانتا ہے۔پانچویں یہ کہ سنگ اسود ہمارے دلوں کے اخلاص و نفاق کو بھی جانتا ہے کہ کون اخلاص سے چوم رہا ہے اور کون نفاق سے۔چھٹے یہ کہ سنگ اسود حاجیوں کے اچھے برے خاتمہ کو جانتا ہےکہ کون ایمان پر مرا اور کون کفر پر،تب ہی تو وہ مؤمن مخلص کی شفاعت کرے گا مرتد منافق کی شفاعت نہ کرے گا۔جب ایک پتھر کے علم و نفع کا یہ حال ہے تو حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم جن کو رب نے سید الخلق بنایا ان کے علوم کا کیا پوچھنا،جو لوگ حضور انور کے لیے علوم خمسہ نہیں مانتے وہ اس حدیث میں غور کریں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2578