Main Icon

باب: مکہ کا داخلہ اور طواف - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2579

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: « إِنَّ الرّكْنَ وَالْمَقَامَ يَاقُوتَتَانِ مِنْ يَاقُوتِ الْجَنَّةِ طَمَسَ اللّٰهُ نُورَهُمَا، وَلَوْ لَمْ يَطْمِسْ نُورَهُمَا لأَضَاءَ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ » . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن ابن عمر قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: « إن الركن والمقام ياقوتتان من ياقوت الجنة طمس الله نورهما، ولو لم يطمس نورهما لأضاء ما بين المشرق والمغرب » . رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں میں نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ رکن اسود اور مقام ابراہیم جنت کے یاقوتوں میں سے یاقوت ہیں جن کی روشنی اللّٰہ نے چھپالی ہے ۱؎اگر ان کی روشنی نہ چھپاتا تو یہ پورب و پچھم کے درمیان کو جگمگا دیتے ۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ان دونوں جنتی یاقوتوں کو دنیا میں بھیجنے سے پہلے ان کا اصل نور چھپا لیا گیا تاکہ جنت پر ایمان بالغیب رہے،حجر اسود اور مقام ابراہیم دونوں ہی جنت کے جواہرات میں سے ہیں۔
۲
؎اور ان کی جگمگاہٹ سورج کو خیرہ کردیتی،سنگ اسود کو کفار قرامطہ اٹھالے گئے تھے،انہوں نے مکہ معظمہ میں اتنا قتل و خون کیا تھا کہ حرم شریف اور چاہ زمزم لاشوں سے بھر گیا تھا،حجر اسود سے بولے کہ تو ہی شرک کا سرچشمہ ہے خدا کے سواء تو کب تک بنا رہے گا، پچیس سال تک یہ ان کے قبضہ میں رہا،پھر مکہ والوں نے انہیں بہت سا مال دے کر سنگِ اسود مانگا،وہ بولے کہ وہ پتھر دوسرے پتھروں سے مخلوط ہوگیا ہے آؤ پہچان کر لے جاؤ،مکہ معظمہ کے علم اء نے کہا کہ جس پتھر پر آگ اثر نہ کرے وہ سنگ اسود ہے کیونکہ جنتی چیز میں آگ اثر نہیں کرتی۔چنانچہ پتھر آگ سے تپ گئے یہ گرم بھی نہ ہوا،اس علامت سے واپس لائے،جاتے وقت اس پتھر کے بوجھ سے کئی سو اونٹ دب کر مر گئے تھے مگر واپسی کے وقت ایک دبلا اونٹ اسے مکہ لے آیا۔غرضکہ سنگ اسود عجیب نورانی بابرکت پتھر ہے۔(مرقاۃ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2579