Main Icon

باب: مکہ کا داخلہ اور طواف - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2574

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنِ الْمُهَاجِرِ الْمَكِّيِّ قَالَ: سُئِلَ جَابِرٌ عَنِ الرَّجُلِ يَرَى الْبَيْتَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فَقَالَ قَدْ حَجَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَكُنْ نَفْعَلُهٗ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ

عن المهاجر المكي قال: سئل جابر عن الرجل يرى البيت يرفع يديه فقال قد حججنا مع النبي صلى الله عليه وسلم فلم نكن نفعله . رواه الترمذي وأبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت مہاجر مکی سے فرماتے ہیں کہ حضرت جابر سے اس شخص کے متعلق پوچھا گیا جو بیت اللّٰه کو دیکھ کر اپنے ہاتھ اٹھائے فرمایا ہم نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے ساتھ حج کیا ہم تو یہ نہ کرتے تھے ۱؎(ترمذی،ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی بیت اللّٰه کو دیکھ کر ہاتھ اٹھاکر دعا مانگنا بدعت ہے سنت نہیں،امام ابوحنیفہ و شافعی و مالک رضی اللّٰہ عنہم کا یہ مذہب ہے،امام احمد کے ہاں ہاتھ اٹھانا سنت ہے۔مرقات نے فرمایا کہ ان تین اماموں کے ہاں بھی کعبہ دیکھ کر ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا سنت ہے،فتح القدیر و مرقات میں بیہقی سے ہے کہ فاروق اعظم فرماتے ہیں کہ جب بیت اللّٰه شریف کو دیکھو تو ہاتھ اٹھا کر پڑھواَللَّھُمَّ اَنْتَ السَّلَامُشافعی نے حضرت ابن جریح سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کعبہ معظمہ کو دیکھ کر ہاتھ اٹھاتے اور یہ دعا کرتے تھے"اَللّٰهُمَّ زِدْ ھٰذَا الْبَیْتَ تَشْرِیْفًا وَّ تَعْظِیْمًا"الٰہی اس گھر کی عزت و شرف اور بڑھادے،بیہقی نے بھی اس کی مثل روایت کی جب کہ ثبوت و نفی کی روایات میں تعارض ہوا تو ثبوت کی روایت کو ترجیح ہوگئی،نفی کرنے والوں کو اس کی خبر نہ ہوئی یا یوں کہو کہ اول نظر پر ہاتھ اٹھا کر دعا مانگے پھر جب بھی کعبہ نظر آئے بغیر ہاتھ اٹھائے دعا کرے،اس طرح دونوں روایتیں جمع ہیں۔بہرحال ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا ممنوع نہیں بلکہ سنت سے ثابت ہے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2574