Main Icon

باب: مکہ کا داخلہ اور طواف - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2567

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَرَبِيٍّ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ عَنِ اسْتِلَامِ الْحَجَرِ فَقَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهٗ وَيُقَبِّلُهٗ . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن الزبير بن عربي قال: سأل رجل ابن عمر عن استلام الحجر فقال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يستلمه ويقبله . رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت زبیر ابن عربی سے ۱؎فرماتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت ابن عمر سے سنگ اسود چومنے کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا میں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو اسے ہاتھ لگاتے اور چومتے دیکھا ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎زبیر ابن عربی تابعی بصری ہیں،حضرت ابن عمر سے سماع ثابت ہے ان سے صرف یہ ہی ایک حدیث مروی ہے۔(اشعہ)اور زبیر ابن عدی کوفی ہیں،تابعی ہیں،انہوں نے حضرت انس ابن مالک سے سنا ہے۔(مرقات)
۲
؎کہ یہ چومنا جائز ہے یا ناجائز،اگرجائز ہے تو سنت بھی ہے یا نہیں،بعض جہلاء کو خیال ہوگیا تھا کہ یہ پتھر پرستی ہے،ان پر شیطانی توحید کا زور ہوگیا تھا اس لیے صحابہ کرام سے یہ سوالات ہوتے تھے اس طرح کہ کبھی حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے منہ لگا کر چوما اور کبھی ہاتھ سے سنگ اسود چھوا اور ہاتھ شریف چوم لیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2567